Breaking

Search This Blog

Sunday, June 9, 2019

حضرت شیخ الاسلام:ایک منفردالمثال شخصیت حضورشیخ الاسلام کے رُخِ حیات کے چند تابندہ نقوش

حضرت شیخ الاسلام:ایک منفردالمثال شخصیت 

حضورشیخ الاسلام کے رُخِ حیات کے چند تابندہ نقوش 

مولانامظفرعالم اشرفی

نائب مہتمم مدنی میاں عربک کالج ہبلی

علم وعرفان اور طریقت ومعرفت کی سرزمین کچھوچھہ شریف میں 28؍اگست 1938ء کورئیس المحققین شیخ الاسلام حضرت مولاناسیدمحمدمدنی میاں صاحب کی ولادت ہوئی۔آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی محدث اعظم ہند حضرت علامہ سیدؔمحمد کچھوچھوی اشرفی الجیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی تربیت ونگہداشت میں مکتب جامعہ اشرفیہ کچھوچھہ شریف سے حاصل کی۔والد محترم نے اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے دارالعلوم اشرفیہ مبارک پور کا انتخاب فرمایااور حافظ ملت حضرت شاہ عبدالعزیز علیہ الرحمہ جیسے مخلص استاد کے سپرد کیا۔ آپ نے جنوری 1963ء میں مبارک پور اشرفیہ سے سند فراغت حاصل کی۔زمانۂ طالب علمی کی زندگی بھی طلبہ کے لیے بلاشبہ قابل تقلید اور نمونہ عمل ہے۔علمی ریاضت اور اوقات کی قدردانی نے شیخ الاسلام کو آبروئے علم وفن بنادیا۔آپ کی علمی گہرائی،وسعت مطالعہ اور عمیق نظری کے طلبہ ہی نہیں اساتذہ بھی قائل تھے۔
شیخ الاسلام حضرت مولاناسیدمحمدمدنی میاں صاحب کی حیات کاہر گوشہ اورہر پہلو تابندہ اورتابناک ہے۔مختلف اعتبار سے شیخ الاسلام حضرت مولاناسیدمحمدمدنی میاں صاحب کی حیات نمایاںاور گوناگوں خصوصیات کی حامل ہیں۔جس پہلو سے دیکھا جائے آپ بے مثل ومثال نظرآتے ہیں۔دین پر استقامت ،شریعت مطہرہ پر ثابت قدمی،فقہ میں بلند مقام ومرتبہ،علم حدیث میں مہارت اور مسند درس وتدریس میں دسترس غرضیکہ ہر پہلو اچھوتااور منفرد ہے۔یوں تو خانوادۂ کچھوچھوی ہر طرح کے علوم و فنون کا گہوارہ رہا، فضل و شرف اور خاندانی نجابت میں آج بھی امتیاز حاصل ہے ۔یہ خانوادہ کئی علوم و فنون میں اپنی نظیر آپ ہے ، تمام خوبیوں پر مستزاد سب سے عظیم صفت جو نمایاںرہی وہ ہے تفقہ فی الدین ۔ دین ِ متین کی خدمت واشاعت اس خاندان کا طرۂ امتیاز تھا اور الحمدللہ آج بھی ہے ۔
شیخ الاسلام حضرت مولاناسیدمحمدمدنی میاں صاحب کی شخصیت کوسمجھنامجھ جیسے کم علم کے بس کی بات نہیں۔ان کی عظمت کو سمجھنے کے لیے ان کی عظیم خدمات کا تعارف ہی کافی ہے جو ہر شعبے میںبے مثال ،نادر رونایاب ہے۔حسن اخلاق ،مومن کا جوہر ہے شیخ الاسلام حضرت مولاناسیدمحمدمدنی میاں صاحب اس جوہرسے متصف ہیں اور فرائض و واجبات و سنن پر عمل میں منفرد المثال ۔ اورآپ نے اپنی حیات طیبہ سے اسی کا درس بھی دیا۔ آپ کی زندگی کا ہرگوشہ شریعت اسلامی کی پاسداری کا اعلیٰ نمونہ ہے ، آپ کی ایمانی جرأت کسی بھی قسم کی مصلحت کو شی اور چشم پوشی سے مبرا ہے ۔ آپ نے معرفت الٰہی کے لیے فکرسازی اور عملی زندگی میں دینی احکام کی جلوہ گری پر زوردیا۔
شیخ الاسلام حضرت مولاناسیدمحمدمدنی میاں صاحب کی شخصیت علم وفن کے باب میں نیر درخشاں اور شعر و سخن کی فصل میں بدر کامل بن کرطلوع ہوتی ہے ۔شیخ الاسلام حضرت مولاناسیدمحمدمدنی میاں صاحب جہاں زندگی کے ہر پہلو میں فقیدالمثال ، نادرروز گار اور نازش باغ و بہار ہیں وہیں شعر و سخن کے آئینے میں بھی دیکھئے تو شعر کی زلف برہم سنوارتے اور سخن کے عارض پرغازہ ملتے نظر آتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آپ نے اپنی قندیل شعورو آگہی سے ظلمات فکر و نظر کے دبیز پردہ کو چاک کیا اور گم گشتگان راہ کو نشان منزل اور شمع ہدایت عطا کی۔ہر بڑے مفکر کی طرح آپ نے بھی اپنے اصول اور ایقان کی روشنی میں ایک فصیح و بلیغ و جدید کلام دنیا کو پیش کیا ہے اور اپنی بانکی طبیعت سے گلشن شعرو سخن میں جذبۂ محبت اور ولولۂ عقیدت کا ایسا کشادہ منفرد اور پر شکوہ تاج محل تعمیر کیا ہے جس کی خوبصورتی ، فنکاری ، نئے نئے نقش و نگار اور انوکھے گل بوٹے دیکھ کر لوگ غرق حیرت ہیں۔آپ کی شاعری میں طلاقت لسانی ، سلاست زبانی ، طرز ادا کی دلآویزی ، اسلوب بیان کی دلکشی اور مضامین کی روانی و شگفتگی بدرجۂ اتم موجود ہے ۔254؍صفحات پر مشتمل آپ کا مجموعۂ کلام ’’تجلیات سخن‘‘کے نام سے شائع ہو چکا ہے ۔اس کے دو حصے ہیں،پہلا حصہ باران رحمت کے عنوان سے حمد ونعت اور منقبت پر مشتمل ہے جب کہ دوسرا حصہ پارۂ دل کے نام سے غزلوں اور نظموں پر آپ کی مذہبی شعری شریعت وشعریت کے امتزاج کی حسین شہ کار ہے۔
باران ِ رحمت کاآغاز حمدالٰہی کے ان چار مصرعوں سے ہوتا ہے    ؎
ذرّے ذرّے سے نمایاں ہے مگر پنہاں ہے
میرے معبود!تری پردہ نشینی ہے عجیب
دور اتنا کہ تخیل کی رسائی ہے محال 
اور قربت کا یہ عالم کہ رگِ جاں سے قریب
حضور شیخ الاسلام موروثی شاعر ہیں۔آپ کی نازک خیال شاعری سے ملک ہندوپاک اور افریقہ وبرطانیہ کے بہت سے علماء وشعرا خوب اچھی طرح سے واقف ہیں۔ حضرت شفیق ؔجونپوری اردو شعریات میں اپنا ایک اہم مقام رکھتے ہیں ۔جب آپ کی خدمت میں حضور شیخ الاسلام نے اپنا کلام بغرض اصلاح پیش کیاتو انہوں نے فرمایا:’’ایسے ٹھوس اور جامع اشعار کی اصلاح نہیں ہواکرتی۔‘‘(ہمارے شیخ الاسلام،ص19:از:سید شوکت علی اشرفی)
حضور شیخ الاسلام ’’اختر‘‘تخلص فرماتے۔حضرت کی شاعری اپنی انفرادی شان رکھتی ہے۔ان کی شاعرانہ طبیعت کا مرکز ومحور عشق رسول ﷺہے جو آپ کے اشعار سے واضح ہوتا ہے   ؎
صرف اسی کو ہے ثناء ِ مصطفی لکھنے کا حق
جس قلم سے روشنائی میں ہو شامل احتیاط
ایک جگہ یوں اظہار فرماتے ہیں    ؎
فقط تمہاری شفاعت کا آسرا ہے حضور 
ہمارے پاس گناہوں کے ماسواکیاہے ؟
کھڑا ہے اختر عاصی در مقدس پر 
حضور آپ کی رحمت کا فیصلہ کیا ہے ؟
ایک اور مقام پر امت مسلمہ کی نصیحت کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں   ؎
اے مری قوم کے عالموو زاہدو!
نخوت زہد ودانش بری چیز ہے
کیا مجھے یہ بتانا پڑے گا تمہیں
کس سبب سے عزازیل مارا گیا
آپ کو غریبوں سے بڑی محبت ہیں ۔کسی سیٹھ ساہوکار کے ہاں قیام نہ فرماتے ، غریبوں کی کٹیا کو رونق بخشتے۔اس ضمن میں ڈاکٹر طارق سعید صاحب ’’محدث اعظم ہند نمبر‘‘میںاپنا ذاتی واقعہ تحریر فرماتے ہیں کہ:
’’سید عبدالرحمن مرحوم کی جھونپڑی قابل ترجیح ہے۔ہبلی کے دوسرے چاہنے والوں کی پکی چھتوں کے مقابلے میں۔خاکسار خود بھیکتی برسات میں ٹپکتی بلکہ بارش زدہ اس جھونپڑی میں حضرت مدنی ؔ کے ساتھ پنّی لگا کر کئی راتیں گزار چکا ہے۔لاکھوں چاہنے والوں کا یہ فقیر منش انسان،جسے دنیا مدنی میاں کے نام سے جانتی ہے،احد اور صمد پروردگار نے اسے دنیا سے بے نیاز اور مستغنی کردیا ہے۔جہاں بسیرا ڈال دیا وہی جگہ اس کا گھر اور مکان ٹھہرا۔خدا اپنے نیک بندوں پر مہربان ہوتا ہے تو یہ کہنے کی ضرورت نہیں پڑتی کہ :
مرے خدا تو مجھے اتنا معتبر کردے
میں جس مکاں میں رہتا ہوں اس کو گھر کردے 
(جام نور،ص:174،اپریل 2011ء )
تبلیغ دین اوررشد و ہدایت کے لئے آپ نے بڑی بڑی تکلیفیں برداشت کیں ۔ ملک کے گوشہ گوشہ کا دورہ کیا ۔ کو ردہ علاقوں میں پیدل بھی راستہ طے کیا ۔ آپ کے لئے تو لوگ نگاہوں کو فرش راہ کئے رہتے ، آپ کے اشارے پرلوگ جان و دل نچھاور کرنے کو تیار رہتے ۔ مگر آپ نے کبھی اپنے لئے کچھ نہ چاہااورنہ اپنے آرام کا خیال کیا ۔ حضرت شیخ الاسلام اپنی اہلیۂ محترمہ کے آخری ڈھائی تین سالہ علالت کے عالم میں بھی دین مبین کی تبلیغ وتشہیر میں زمین کے طول وعرض کی پیمائش  کررہے تھے۔حضور شیخ الاسلام نے مدرسے میں منعقد ہونے والے ہفتہ واری مشقی پروگرام میں کبھی کوئی تقریر نہیں کی۔اس بات کا علم جب قاری محمد یحییٰ صاحب کو ہواتوآپ نے حضور محدث اعظم ہند سے شکایت کی کہ شہزادے مشقی جلسہ میں شرکت نہیں کرتے جس کا مجھے دکھ ہے۔محدث اعظم علیہ الرحمہ نے فرمایا:’’میاں مچھلی کے بچے کو تیرنا نہیں سکھاتے۔‘‘(جام نور، ص: 174، اپریل 2011ء )غور کیاجائے تو اس ایک جملے میں جہاں اعتماد،اپنائیت اور والہانہ سرپرستی کی رنگارنگی موجود ہے،وہیں اس میں تبلیغ دین اورشیخ الاسلام کے مسند خطابت کی بلندیوں کی پیشین گوئی بھی عکس ریز ہے۔ہنداوربیرونی ممالک میں حضرت شیخ الاسلام کے تبلیغی خطابات سے ہزاروں افراد کو رب قدیر جل شانہ نے ہدایت عطا فرمائی ہے۔فکر ونظر اور کردار وسلوک کے اصلاح وتزکیہ کا ایک تحریکی نظام آپ کی بدولت برطانیہ ودیگر مغربی ممالک میں آباد مسلمانوں کو میسر آیا ہے۔لندن،برمنگھم،مانچسٹر،بولٹن،بلیبرن،پریسٹن،لنکا شائر،بریڈفورڈ،ڈیوزبری،نیویارک،نیو جرسی،شکاگو،ہیوسٹن،کناڈا،ہالینڈ اورفرانس وغیرہ وغیرہ مقامات پر تبلیغی دورے فرمائے جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد کو دیارِ غیر میں عقیدے کی سلامتی حاصل ہوئی،نیز انہیں اخلاقی وروحانی اعتبار سے صراطِ مستقیم پر چلنے کاحوصلہ ملا۔
شیخ الاسلام حضرت مولاناسیدمحمدمدنی میاں صاحب کی تصانیف علوم و معارف کا گنجینہ اور تحقیق و تدقیق کا خزینہ ہیں۔ورق ورق میں محبت و خشیت الٰہی مسطور ہے تو سطر سطر سے عشق و ادب رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نور بیز کرنیں دلوں کو منورو مجلا کرتی ہیں ۔طرز تحریر سادہ سلیس ، عمدہ اور رواں دواں ہے۔ آپ نے جس مسئلے پر قلم اٹھایا اُس کی تو ضیح کا حق ادا کردیا اور اپنا موقف قرآن و حدیث کی روشنی میں اس انداز سے تحقیق کرکے مبرھن کیا ہے کہ عقل حیران رہ جاتی ہے اور شک و شبہہ کی گنجائش نہیں رہتی ۔(۱)فریضۂ دعوت وتبلیغ(۲)دین کامل(۳)مسئلہ حاضر وناظر(۴)اشتراکیت(۵)التحقیق البارع فی حقوق الشارع (۶)تفہیم الحدیث شرح مشکوٰۃ شریف(۷)اسلام کا تصور الٰہ اور مودودی صاحب(۸)اسلام کا نظریۂ عبادت اور مودودی صاحب(۹)دین اور اقامت دین(۱۰)تعلیم دین وتصدیق جبریل امین(۱۱)انما الاعمال بالنیات(۱۲)نظریۂ ختم نبوت اور تحذیر الناس(۱۳)مقالات شیخ الاسلام(۱۴)محبت رسول روحِ ایمان(۱۵)الاربعین الاشرفی(۱۶)امام احمد رضا اور اردوتراجم کا تقابلی مطالعہ(۱۷)مسلم پرسنل لا یااسلامک لا؟ (۱۸)پیغمبر اسلامﷺایک بے مثال انسان کے روپ میں(۱۹)ٹی وی ویڈیوکا شرعی استعمال(۲۰)کتابت نسواں(۲۱)رسول اکرمﷺکے شرعی اختیارات کی شرع ،حاشیہ اور تکمیل(۲۲)لائوڈ اسپیکر پر نماز کے جواز کا فتویٰ(۲۳)چاند دیکھنے کی خبر پر تحقیق بھرافتویٰ(۲۴)صحیفۂ ہدایت (۲۵)تفسیر والضحیٰ(۲۶) سیدالتفاسیر معروف بہ تفسیر اشرفی اور (۲۷) شعری مجموعہ تجلیات سخن آپ کی تصنیفات کا گراں قدر ذخیرہ ہے ۔شیخ الاسلام کی دوربین نگاہوں اور نفیس علمی وتحقیقی نکات کو بہت سارے جہاں دیدہ ،زمانہ شناس اور دور اندیش اہل علم نے خوب سمجھااور سراہا۔پاکستان کے معروف عالم دین غزالی دوراں حضرت علامہ سید احمد کاظمی علیہ الرحمہ نے آپ کی فتویٰ نویسی کی عرق سے متاثرہوکر آپ کو ’’رئیس المحققین ‘‘کا خطاب عطا فرمایا۔
 دنیا وی مفاد کی خاطردین میں بے جامداخلت علماے کرام نے نہ کل برداشت کی تھی اور نہ آج۔دور حاضر میں اسلام کے روحانی نظام کو مسخ کر نے کی مسلسل کوشش ہورہی ہے اور خانقاہی نظام زوال پذیر ہے،ایسے عالم میں شیخ الاسلام حضرت مولاناسیدمحمدمدنی میاں صاحب نے اسلام کے روحانی نظام اور خانقاہی مراسم کو نئی زندگی دی اور لاکھوں افراد کو گمراہی اور ضلالت کے اندھیرے سے نکالا۔شیخ الاسلام حضرت علامہ سیدمحمدمدنی میاں صاحب ہرمحفل میں وعظ و تلقین اور نصیحت فرماتے ۔آپ کی ہر مجلس بذات خود ایک تبلیغی ادارہ ہوتی ۔ آپ کی محفل میں زندگی او ربندگی کا سلیقہ عطا ہوتا ۔ بیعت وارادت کا فریضۂ خاندانی اداکرنے کے لیے آپ نے اپنے نیازمندوں کو ہمیشہ شفقت ومحبت کے سلوک سے بہرہ ور فرمایا۔اس راہ کے آداب ونصاب کو اولوالعزمی اور شائستگی سے برت کر ایک مثالی کردار پیش کیا۔اپنے سلسلہ سے وابستہ لوگوں کو دینی کاموں،مساجد کی خدمت،علمی پروگراموں میںجاں فشانی سے حصہ لینے کی ترغیب دی۔اعلیٰ حضرت سید شاہ علی حسین اشرفی جیلانی علیہ الرحمہ کے بعد سلسلہ ٔ اشرفیہ کی اشاعت کا بین الاقوامی سطح پر وسیع کارنامہ آپ نے انجام دیا۔آج اس روحانی سلسلہ سے برصغیراور مغربی ممالک میں ہزاروں افراد وابستہ ہیں۔
حضرت شیخ الاسلام آل انڈیا الجمیعۃ الاشرفیہ کی نشاۃ ثانیہ میں پیش پیش رہے،آپ آل انڈیا جماعت رضائے مصطفی،آل انڈیا تبلیغ سیرت اور آل انڈیا سنّی جمیعۃ العلماء کے نائب صدر ہیں۔آپ نے ۱۸؍اگست ۱۹۸۰ء کو ’’محدث اعظم مشن ‘‘قائم فرمایا،دستور مرتب فرمایا ،جس کی ستّرشاخیں ہندوستان میں اور دوسو سے زائد شاخیں مغربی ممالک میں موجود ہیں۔صوبۂ گجرات میںآپ کی سرپرستی میں آپ کے نام سے منسوب ’’مدنی اسلامک اسٹڈی سینٹر‘‘کے معرفت اینٹر کالج اور لڑکوںا ورلڑکیوں کے لیے مدرسہ وہوسٹل کا انتظام ہے، جہاں نونہالان قوم اپنی علمی تشنگی بجھا رہے ہیں۔ساتھ ہی 25؍بیڈ کاشاندار مدنی جنرل ہاسپٹل مخلوقِ خدا کی خدمت کے لیے موجود ہے۔
یہ بڑی خوش بختی کی بات ہے کہ حضورشیخ الاسلام کی حیات مبارکہ ہی میں آپ کی سوانح حیات اور دینی وملی خدمات قلم بندکرنے کاسلسلہ جاری ہے اور اب  تک کئی مضامین و کتابیں لکھی جاچکی ہیں ۔باوجود اس کہ قابل مبارکباد ہےذمہ داران مدنی فاؤنڈیشن و مولاناڈاکٹر غلام ربانی فداؔ صاحب (مدیراعلیٰ جہان نعت ،ہیرور) جو ایک عظیم سرمایہ امت مسلمہ کوپیش کررہے ہیں۔ بارگاہ الٰہی میں دعا ہے کہ اللہ پاک اپنے حبیب ﷺکے صدقے اس نذرانۂ و فا کو قبول فرما کر توشۂ آخرت اور ذریعۂ نجات بنائے ۔ آمین
٭٭٭



No comments:

Post a Comment

Popular Posts

Popular Posts