Breaking

Search This Blog

ShaikhulIslaam Android App

Sunday, June 9, 2019

شیخ الاسلام اور آپ کے پیرومرشد

مولاناعبد الخبیر اشرفی مصباحی، 

صدرالمدرسین مدرسہ عربیہ اہل سنت منظر اسلام، التفات گنج امبیڈ کر نگر،یوپی

 شیخ الاسلام اور آپ کے پیرومرشد

ولادت باسعادت:
مظہر غوث سمناں، امام اہل سنت، آفتاب اشرفیت ،مخدوم المشائخ ، سرکار کلاں الحاج الشاہ حضرت علامہ مفتی سیدمحمد مختار اشرف اشرفی جیلانی سجادہ نشیں خانقاہ حسنیہ سرکارکلاں کچھوچھہ شریف۲۶؍جمادی الآخر ۱۳۳۳ھ مطابق ۱۲؍مئی۱۹۱۴ء کو شکم مادر سے آغوش مادر میں جلوہ آراہوئے-
سن ہجری کے اعتبار سے تاریخی نام ’’محمد مختار‘‘ قرارپایا- بڑے حضرت صاحب کے روزنامچہ میں بھی اسی نام کا اندراج ہے- اور سن عیسوی کے اعتبار سے ’’محمد مختار اشرف‘‘ تجویز ہوا-ان ناموں کا انتخاب مجدد دین وملت اعلی حضرت مولانا الشاہ احمد رضاخان علیہ الرحمۃ والرضوان نے کیا-چنانچہ خلیفۂ حضور مفتی اعظم ہند الحاج قاری امانت رسول قادری برکاتی رضوی نوری صاحب نے ’’تجلیات اعلیٰ حضرت‘‘ نامی کتاب کے صفحہ نمبر۱۰۶؍پر تحریر فرمایا ہے کہ:
’’شہزادئہ حضور اشرفی میاں، زینت کچھوچھہ مقدسہ فخر خاندان اشرفیہ،مولانا شاہ سید احمد اشرفی جیلانی ۱۳۳۳ھ میں بریلی شریف اعلی حضرت سرکار کی خدمت میںحاضر ہوئے اور عرض کیا حضور آپ کے پوتے کی ولادت ہوئی ہے ،چونکہ حضرت موصوف اعلی حضرت سرکار کے تلمیذ و خلیفہ بھی تھے ،جس کا ذکر اعلی حضرت نے اپنے رسالہ مبارکہ ،،الاستمداد علی اجیال الارتداد،، میں خود فرمایا ہے کہ:
بلکہ رضا کے شاگردوں کا  
نام لئے گھبراتے یہ ہیں 
احمد اشرف حمدو شرف لے
اُس سے ذلت پاتے یہ ہیں 
رشتۂ طریقت کی بناپرفرمایا ،آپ کے پوتے کی ولادت ہوئی ہے ،حدیث پاک میں  محمدنام کی فضیلت آئی ہے یوں اُس کا نام محمد رکھ دیاہے -حضور کوئی تاریخی نام رکھ دیں اور دعا فرمائیں -اعلی حضرت قبلہ نے فرمایا اُن کے نانا جان مختار کون و مکاں بھی تو ہے [صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم] لہذا فقیر اُس بچے کا نام محمد مختار رکھتا ہے -دیکھئے شاید سن ولادت ہو گئی-جب اعداد شمار کیا تو پورے ۱۳۳۳ ؁ ھ ہوئے اور یہی سن ولادت تھا- ایک سکنڈ کے بعد فوراً اعلی حضرت نے فرمایا:حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی قدس سرہ الربانی سے اِس خاندان کو نسبت ہے اسی بنا پر آپ کا نام احمد اشرف ہے -لہذا فقیر محمد مختار میں اشرف کا اور اضافہ کرتا ہے-اب اِس نام مین یہ خوبی پیدا ہو گئی کہ محمد مختار سے سن ہجری نکلے گی اورمحمد مختار اشرف سے سن عیسوی نکلے گی -خدا مبارک کرے ،علم نافع وعمل صالح عطا فرمائے اور آپ کا سچا جا نشین بنائے-جب محمد مختار اشرف کا عدد نکالے گئے تو ۱۹۱۴ ؁ ء نکلے -سبحان اللہ العظیم‘‘-
والدین کریمین:
امام العرفا، زینت الاتقیا ، مرشد اعلی حضرت اشرفی میاں، حضرت علامہ سید شاہ حسین اشرف اشرفی جیلانی علیہما الرحمہ کی دختر نیک اخترسیدہ زاہدہ آپ کی والدہ ماجدہ تھیں- بڑی پارسااور نیک خاتون تھیں-عادتاًفیاض طبیعت تھیں -غرباپروری وصف خاص تھا-سن ہجری ۱۳۸۲؍ کو راہی دارآخرت ہوئیں- 
مجدد سلسلۂ اشرفیہ، مخدوم الاولیاء نظرکردئہ وپردئہ سہ محبوباں، اعلی حضرت ، مولانا الشاہ سید محمد علی حسین اشرفی میاں علیہ الرحمہ کے فرزند دل بند، سلطان المناظرین، امام المتکلمین، عالم ربانی ، واعظ لاثانی حضرت علامہ مفتی احمد اشرف اشرفی جیلانی علیہ الرحمہ آپ کے والد ماجد تھے-
شہزادئہ اعلیٰ حضرت حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ ٗ نے رسالہ الاستمداد علیٰ اجیال الارتداد[ذکر احباب و دعاء احباب]مطبوعہ قادری بکڈپوبریلی شریف کے صفحہ نمبر ۹۲؍کے حاشیہ نمبر ۱ ؍پر تحریر فرمایاہے کہ :
’’ابوالمحمود احمد اشرف اشرفی جیلانی زیب سجادہ کچھوچھہ شریف حضرت جناب غوث الاعظم جیلانی کی اولاد سے تھے اور اعلیٰ حضرت امام اہل سنت بریلوی کے ابتدائی تلامذہ میں سے تھے -آپ عارف با للہ سیّد علی حسین اشرفی کچھوچھوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے نامور فرزند تھے -تاریخی نام مولیٰنا ابو المحمود سیّد شاہ احمد اشرف تھا -۱۴ ؍شوال ۱۲۸۶ ؁ ھ بروز جمعہ پیدا ہوئے - ابتدائی کتابیںکچھوچھہ شریف میں پڑھیں -مفتی لطف اللہ علی گڑھی سے درسیات کی تکمیل کی -خواب میں  سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے دستار بندی کرائی -چنانچہ اِس خواب کے بعد آپ نے کسی مدرسہ سے دستار فضیلت حاصل کرنے سے انکار کر دیا-
گو آپ اپنے والد مکرم سے بیعت تھے -مگر اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ نے بھی اجازت و خلافت عطا فرمائی- آپ کی تقریر ہر دلعزیز ہوتی اور وعظ میں تاثیر ہوتی - آپ اپنے والد ماجد کی حیات میں ہی ۱۳۴۳ ؁ ھ میں واصل بحق ہوئے -حضرت مولانا سیّد محمد مختار اشرف مدظلہ العالی آپ ہی کے فرزندارجمند ہیں‘‘-[تفصیل کے لئے دیکھئے تذکرہ علماء اہل سنت مطبوعہ کانپور،مقالات یوم رضا حصّہ سوم مطبوعہ لاہور ،خلفائے اعلیٰ حضرت مؤلفہ محمد صادق قصوری]
رسول اکرم نور مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے فیضانِ خاص سے حضرت عالم ربانی سید شاہ احمد اشرف اشرفی جیلانی علیہ الرحمہ کو علم وافر عطاہوا چنانچہ حضرت علامہ مفتی رضاء الحق اشرفی لکھتے ہیں:
’’عالم ربانی کو تمام علوم وفنون مروجہ وغیر مروجہ پر کامل دست گاہ حاصل تھی- علم تفسیر، حدیث، اسماء الرجال، اصول فقہ ، فقہ، اصول حدیث، علم کلام، تاریخ وسیر، منطق وفلسفہ، ریاضی، اور بہت سارے ایسے فنون جن کا نام بھی اب درس گاہوں میں باقی نہیں رہ گیا، ان سب پر آپ کو مہارت حاصل تھی - فن ریاضی تو جیسے آپ کا فن تھا- دولاکھ برس تک جنتری انگریزی ماہ کے حساب سے مرتب فرماکر شائع فرمائی اور وہ بھی اتنی مختصر کہ صرف ایک بالشت کاغذ میں آسکتی ہے- اور ساتھ ہی یہ چیلنج بھی جنتری کے نیچے لکھ دیاکہ آج سے دولاکھ سال تک میری جنتری میں جو غلطی نکال دے اسے زر خطیر انعام دیاجائے گا- دوسری جنتری سن ہجری کے مطابق مرتب فرمائی جو غیر محدود سالوں تک کے لیے کافی ہے اور خوبی یہ ہے کہ اس میں سن وتاریخ کادیکھنا ایسا آسان فرمادیا ہے جیسے لوگ گھڑی دیکھ کر آسانی کے ساتھ وقت معلوم کرلیتے ہیں- یہ جنتری اتنی مختصر سائز میں ہے کہ گھڑی کے ڈائل میں آسانی کے ساتھ کندہ ہوسکتی ہے‘‘-[تذکرئہ مولانا سید احمد اشرف، ص:۲۳،۲۴؍مطبوعہ الاشرف اکیڈمی راج محل سن اشاعت ۱۹۹۵]
تحصیل علوم:
مخدوم المشائخ کے دادازبردست عالم تھے ، قلت وسائل کے دور میں عالمی شہرت یافتہ مبلغ تھے، علم دوست ایسے تھے کہ اپنے وطن ہی میںایک شاندارلائبریری بنام’’کتب خانہ اشرفیہ‘‘ اورایک عالی شان مدرسہ بنام ’’جامعہ اشرفیہ‘‘ قائم فرمایا -والد محترم بلند پایہ عالم دین تھے،یگانۂ روزگارمحقق تھے، لاثانی واعظ وخطیب تھے-پوراگھرانہ علم سے منورتھا، زیورعلم سے آراستہ وپیراستہ تھا-گویا ’’ایں خانہ ہمہ آفتاب است‘‘ کا مصداق تھا-ایسے گھرانے میں پیداہونے والابچہ علم سے کب عاری رہ سکتاہے؟-چنانچہ جب مخدوم المشائخ کی عمر تحصیل علم کے لائق ہوئی تو جامعہ اشرفیہ کچھوچھہ شریف میں آپ کا داخلہ ہوا-اس جامعہ کا ذکر اعلی حضرت اشرفی میاں نے اپنے وصیت نامہ میں کیاہے-اس جامعہ میں ایسے باکمال اور نادرئہ روزگار اساتذہ نے درس دیاہے جن کی نگاہ ناز نے اپنے طالب علموں کو نازش علم وفن بنادیا-اورایسے جلیل القدر علماء ومشائخ نے اس جامعہ سے تحصیل علم کیاہے شہرت ومقبولیت جن کا سرنامۂ امتیاز بن گئی ہے -ایک دور تھا کہ اس جامعہ کے شیخ الحدیث حضرت محدث اعظم ہند، حضرت علامہ مفتی احمد یارخان نعیمی اورحضرت علامہ سید محی الدین اشرف جیلانی جیسی شخصیتیں ہواکرتی تھیں-مخدوم المشائخ نے بھی اسی ادارہ میںتحصیل علم کیا- حضرت مولانا عماد الدین سنبھلی سے میزان سے شرح وقایہ تک درس لیا اور حضرت مفتی عبد الرشید خان اشرفی فتح پوری سے علوم وفنون کا اکتساب کیا-
اعلی تعلیم کے لیے حضرت مخدوم المشائخ نے صدر الافاضل، فخر الاماثل ،خسروئے دربار اشرفی مولانا الشاہ سید محمد نعیم الدین اشرفی علیہ الرحمہ کے سامنے زانوے ادب تہ کیا -جملہ علوم عقلیہ ونقلیہ کی تحصیل فرمائی - دورئہ حدیث مکمل کیا -سند حدیث وفقہ سے نوازے گئے- 
حضرت مخدوم المشائخ ایک لمبے عرصہ تک اساتذہ کے زیر سایہ رہے-علم کی خاطر وطن مالوف چھوڑا، اس میدان میں کتنی کامیابی ملی اس کا اندازہ اعلی حضرت اشرفی میاں کے اس فرمان سے لگایاجاسکتاہے-’’اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اب ان کی دستاربندی ہوچکی ہے اور تمام علوم معقول ومنقول ، تفسیروحدیث، فقہ ومعانی اور تصوف بکمال جاں فشانی جامعہ اشرفیہ کچھوچھہ شریف [جو اس فقیر کا بنایاہواہے] سے حاصل کیا- اور فقیر نے اپنی آرزوکے موافق ان کو دیکھ لیا اور اپناسچاولی عہد بنایا‘‘-[سرکار کلاں بحیثیت مرشد کامل،مرجع سابق، ص:۱۷]
بیعت وخلافت:
مخدوم المشائخ سرکار کلاںکو اپنے جد امجد اعلی حضرت اشرفی میاں علیہ الرحمہ سے بیعت وخلافت کا شرف ملا-پیرومرشد اپنے اس ہونہار مرید کے حق میں فرماتے ہیں:’’سب کے سامنے فقیر نے اپنے فرزند کے فرزند اپنے پوتے اور دل بند سید محمد مختار اشرف عرف محمد میاں کو اپنامرید کرکے اپناولی عہد بنایا اور حاضرین نے بجمال احترام ان سے مصافحہ کیا اور ان کے علم وعمل وعمر واقبال کے لیے دعاکی‘‘- 
منصب سجادگی:
۱۵؍ربیع الآخر ۱۳۴۷ء کو عالم ربانی سید احمد اشرف کا وصال ہوا، مجلس چہلم میں حضرت مخدوم المشائخ ولی عہد بنائے گئے-اعلی حضرت اشرفی میاں علیہ الرحمہ نے اپنے وصال سے چھ ماہ پہلے ایک وصیت نامہ تحریر کیا، مخدوم المشائخ کو تحریراً خانودئہ حسنی کا سجادہ نشیں بنادیا- تاریخ ۶؍جمادی الآخر کی تھی اور ۱۳۵۵ھ سن ہجری تھا-آپ کا وصال ۹؍رجب المرجب ۱۴۱۷ھ کو ہوا-اس طرح سے مخدوم المشائخ علیہ الرحمہ اسلامی کلینڈر کے مطابق۵۲؍ سال ،۱؍ ماہ، ۳؍ دن زینت سجادہ رہے 
سجادگی یا جانشینی ایسا اہم فریضہ ہے جس سے عہدہ بر آہونا ہما شما کی بس کا روگ نہیں بلکہ اس کے لئے ایک کامل انسان کی ضرورت ہے ،جس کے اندر رفعت فکر ونظر ، ذہنی جولانیت و استحضار ، علمی گہرائی گیرائی ، تبحر علمی ورمز شناسی ، سخاوت وفیاضی ، غرباء پروری ، مساکین نوازی ، شفقت وعطوفت ، خلق ومروت، جودو عطا ، فضل وسخا ، زہدو تقویٰ مختصر یہ کہ لمحات زندگانی کا ہرہر پل انوار مصطفائی سے تاباں ودرخشاں ہو-
شریعت مطہرہ کی پابندی ظاہری وباطنی خصوصیات میں داخل ہو، فرائض وواجبات ، سنن ونوافل کی پابندی عادت ثانیہ بن چکی ہو، بلاشبہ یہ ساری صفتیں مخدوم المشائخ مرشدی سرکار کلاں رحمۃ اللہ علیہ کے اندر بدرجۂ اتم موجود تھیں-جس کا اعتراف علمائے ذوی الاحترام اور ہر خاص وعام نے بھی کیاہے-
اعلیٰ حضرت مخدوم الاولیا اشرفی میاں رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے جانشینِ برحق کے اندر ان صفات عالیہ کا نظر باطن وظاہر سے ملاحظہ فرمایا اور اطمینان قلب حاصل کرلینے کے بعد اعلان جانشینی فرمایا چنانچہ ڈاکٹر سید نجم الدین اشرف لکھتے ہیں :’’انہوں نے [حضور شیخ المشائخ مرشدی  سرکار کلاں رحمۃ اللہ نے]مطلوبہ علوم وفنون کی تکمیل کرلی تو ان کی استعداد وصلاحیت سے مطمئن ہوجانے کے بعد حضرت اشرفی میاں نے اپنی وفات سے ایک ماہ قبل ۶؍جمادی الآخرہ ۱۳۵۵ھ کو ایک وصیت نامہ کے ذریعہ انہیں اپنے بعد خانوادۂ حسنی کا سجادہ نشین بھی بنایا تھا۔‘‘(آئینہ اشرفی ،۸۶)
مخدوم الاولیا حضوراعلیٰ حضرت اشرفی میاں علیہ الرحمہ نے اس وصیت نامہ میں مخدوم المشائخ سیدنا سید سرکار کلاں کی شان اقدس میں جو ارشادات رقم فرمائے ہیں وہ آب زر سے لکھے جانے کے لائق ہیں ،ان کا ایک اقتباس ملَخصاً قارئین کی نذر ہے-
’’فقیر سید ابو احمد محمد علی حسین اشرفی جیلانی سجادہ نشین درگاہ روح آباد کچھوچھہ شریف ضلع فیض آباد اپنے تمام فرزندان خاندانی وبرادران ایمانی ومریدان ومتوسلان سلسلہ ٔ اشرفیہ وعقیدت منداںِ آستانہ اشرفیہ کو آگاہ کرتا ہے کہ اس فقیر نے پہلے فرزندِ مطلق وخلیفۂ برحق عالم ربانی واعظ لاثانی مولانا ابو المحمود سید احمد اشرف رحمۃ اللہ علیہ کو اپنا ولی عہد اور اپنے بعد سجادہ نشین جادۂ اشرف السمنانی مقرر کیا تھا۔۔۔۔۔جب فرزند ممدوح نے ۱۵؍ربیع الآخر ۱۳۴۷ھ کو بعارضۂ اسہال وطاعون حالت نماز میں شہادت پائی تو ان کی مجلس چہلم میں بموجودگی فرزندان خاندانی ومریدان وخلفا، اور تمام ہندوستان سے محبان سلسلہ جو آئے سب کے سامنے فقیر نے اپنے فرزند کے فرزند اپنے پوتے اور دل بند سید محمد مختار اشرف عرف محمد میاں سلمہ ربہ کو اپنا مرید کرکے اپنا ولی عہد بنایا-
اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ان کی دستار بندی ہوچکی ہے اور تمام علوم معقول و منقول تفسیر و حدیث ،فقہ و معانی وتصوف کو بکمال جانفشانی جامعہ اشرفیہ [جو اس فقیر کا بنایا ہوا ہے]سے حاصل کیا، اور فقیر نے اپنی آرزؤں کے موافق ان کو دیکھ لیا اور اپنا سچا ولی عہد پایا اب اشارۂ غیبی سے اس فرمان کے ذریعہ سب کو آگاہ کرتاہوں کہ نور نظرم وعصائے پیرم مولانا سید شاہ محمد مختار اشرف اشرفی جیلانی زاد اللہ علمہ وعرفانہ، میرے بعدسجادہ نشینی جادہ اشرف السمنانی خاندان حسنی سرکار کلاں کے ہیں جو مثل میرے مراسم عرس شریف ۲۶؍محرم الحرام نماز مغرب سے ۲۹؍ محرم الحرام تک ادا کرتے رہیں گے۔[اعلانِ وفرمانِ جانشینی]
فتوی نویسی:
مخدوم المشائخ علیہ الرحمہ کا دور فتاوی نویسی ۲۷؍سالوں پر محیط ہے- آپ سفر وحضر دونوں حالتوں میں فتوی نویسی فرمایاکرتے تھے- بہت سارے فتاوی زمانے کے دست برد سے بچ نہ سکے جو بچے ہیں وہ تشنۂ طباعت ہیں-
ایک فقیہ ومفتی کے لیے ضروری ہے کہ وہ سائل ومتکلم کی غرض سمجھنے کی صلاحیت رکھتاہو، ان کے پاس اشیائے دقیقہ کی فہم وادراک کا ملکہ ہو،ادلۂ تفصیلیہ سے مسائل کے استخراج پر قادر اورذہین وفطین ہو- حضرت مخدوم المشائخ کے فتاوی کا مطالعہ کرنے سے اندازہ ہوتاہے کہ آپ کے اندر یہ صفتیں بدرجہ اتم موجود تھیں-بات ایسی ذہانت کی کرتے کہ سننے والا عش عش کرتا، قرآن وحدیث اور اصول وفتاوی کی کتابوں کے نصوص اس قدر مستحضر کہ مجلسی گفتگو میں بھی اس کی شان ظاہر ہونے لگتی، نکتہ سنجی ودقیقہ فہمی کا یہ عالم کہ مقابل خاموش رہنے ہی میں اپنی عافیت سمجھتا-چنانچہ رویت ہلال کے لیے بدعقیدوں نے جب ’’امارت شرعیہ‘‘ کے نام سے ایک تنظیم بنائی تو امارت شرعیہ سمیت آپ کے پاس دس سوالات کئے گئے جس میں ’’فیلتمسوا والیا مسلما‘‘ سے متعلق بھی ایک سوال تھا- آپ نے کتب فقہ کی روشنی میں ان سوالوں کا جواب ارشاد فرمایا- اور والی کے بارے میں تحریر فرمایاکہ’’ والی کے لیے اسلام اور ولایت عامہ ضروری ہے اور امارت شرعیہ والوں کے پاس دونوں ناپید ہیں‘‘-
پیچیدہ مسائل کو عام فہم لفظوں سے بیان کرنے میں آپ مہارت تامہ حاصل تھی- چنانچہ ہندوستان کے دار الاسلام ہونے نہ ہونے کے بارے میں آپ کے پاس سوال آیا - آپ نے دلائل وبراہین سے مزین جواب دیا- پھر جواب کو عام لوگوں کی فہم سے قریب کرنے کے لیے دار الحرب ودار الاسلام کا فرق ان لفظوں سے بیان فرمایا:’’دار الحرب کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ جہاں احکام کفر شائع ہوںاور احکام اسلام بالکل جاری نہ ہوسکیں- بعض احکام مسلمانوں کے جاری ہوں اور بعض احکام کفار کے تو اس وقت دار الحرب نہ ہوگا -اب تک بحمدہ تعالیٰ ہندوستان میں بہت سے احکام اسلام کے جاری ہیں - مسجدوں میں بالاعلان اذان دی جاتی ہے- نمازیں پڑھی جاتی ہیں- حج وزکوۃ وغیرہ اداکئے جاتے ہیں لہذا ہندوستان دار الاسلام ہے نہ کہ دار الحرب‘‘-
آپ کی فقہی بصیرت پر نظر رکھنے والے مولانا ممتاز اشرفی کراچی پاکستان لکھتے ہیں :
’’وہ تمام شرائط جو کسی فقیہ کے لیے ضروری ہیں وہ حضرت مخدوم المشائخ علیہ الرحمہ میں بدرجۂ اتم موجود تھیں، اس لیے آپ فقہائے کرام کے اعتبار سے سے بھی فقیہ وقت ہیں اور صوفیائے کرام کے اعتبار سے سے بھی  فقیہ وقت ہیں‘‘-[سرکار کلاں نمبرص:۱۳۱؍مضمون:مخدوم المشائخ علیہ الرحمہ بحیثیت فقیہ وقت سے ماخوذ]
قاری جمال احمدصاحب جامعہ امجدیہ گھوسی تحریر کرتے ہیں:
’’ حضرت شیخ المشائخ علیہ الرحمۃ والرضوان فقہ وافتاء میں ید طولی رکھتے تھے، جزئیات فقہ پر کامل عبور تھا، محققانہ فتوے تحریر فرماتے تھے-آپ کی حیثیت ایک مقبول ،معتدل مفتی کی تھی ،جس فتوی پر آپ دستخط فرمادیتے تھے وہ فتوی قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتاتھا،آپ کا قول ،قول فیصل ہوتاتھا، آپ کا فیصلہ سب کو قابل تسلیم ہوتا- حضرت علامہ مفتی عبد الجلیل صاحب قبلہ  فقہ وافتامیں آپ کی فقیہانہ بصیرت اور وسعت علم کا انکشاف کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ سرکار کلاں شیخ المشائخ کی علمی صلاحیت و رعب ودبدبہ ایساتھا کہ جامع اشرف سے جو بھی فتوے دئے جاتے تھے موصوف کے زمانے میں ،بغیر آپ کی تصدیق کے نہ بھیجے جاتے تھے- جب میں [عبد الجلیل اشرفی خادم الافتاء جامع اشرف]کسی بھی سوال کا جواب لکھتا تو پہلے حضرت کی بارگاہ میں بھیجواتا، حضرت جب تصدیق فرمادیتے تب میں جواب روانہ کرتا، لیکن صاحب سجادہ کا جو اندازہوتاوہ قابل غورہے جو کہ آپ کے ماہر مفتی ہونے پر قوی دلیل ہے - ہوتایوں کہ جب جوابات مع سوالات سرکار کلاں کی بارگاہ میں پیش کئے جاتے تو آپ پہلے اپنے مخصوص انداز میں سوالات کو بآواز بلند پڑھتے تھے اور سارے لوگ صاف صاف سنتے تھے، جب پوراسوال پڑھ لیتے تو سامعین کی طرف متوجہ ہوکر جواب عنایت کرتے اور فرماتے :آپ لوگوں نے جواب سنا؟ حاضرین عرض کرتے:جی حضور، اس کے بعد سرکار کلاں فرماتے :جیساجواب میں نے بتایاہے اگر مفتی صاحب نے ایساہی جواب دیاہے تو میں اس کی تصدیق کروںگا ورنہ نہیں- پھر مفتی صاحب کالکھاہوا جواب ویساہی ہوتا جیساکہ پہلے صاحب سجادہ زبانی بیان کرچکے ہوتے- فتوے میںجو حوالہ جات ہوتے ، کتاب نکال کردیکھتے تاکہ شک وشبہ باقی نہ رہے پھر تصدیق کرتے اور مہر لگادیتے تھے‘‘-[قاری جمال احمد، مضمون:سرکار کلاں ایک ہمہ جہت شخصیت،سرکار کلاں نمبر، ص:۱۷۳، ۱۷۴]
حضرت مخدوم المشائخ کی فقیہانہ بصیرت کے ثبوت کے لیے یہی کافی ہے کہ آپ کے بعض فتاوی پر مخدوم الملت ،محدث اعظم ہند علیہ الرحمہ اورحضرت علامہ مفتی احمد یار خان علیہ الرحمہ کی مہر تصدیق ثبت ہے- 
زیارت حرمین شریفین ومقامات مقدسہ:
مخدوم المشائخ سرکارکلاں علیہ الرحمہ کوچار مرتبہ حرمین شریفین کی زیارت کا شرف ملا-آپ کے جد امجد اعلی حضرت اشرفی میاں علیہ الرحمہ کو بھی چار بار حرمین شریفین کی زیارت نصیب ہوئی تھی - حضرت مخدوم المشائخ علیہ الرحمہ پہلی بار ۱۹۵۲ء میں ، دوسری بار۱۹۷۲ء میں، تیسری بار ۱۹۸۶ء میں اور چوتھی وآخری باروفات سے چار سال قبل ۱۹۹۲ء میں حج وزیارت سے مشرف ہوئے-
دینی ومذہبی عمارتوں کی تعمیر:
مخدوم المشائخ نے اپنی جیب خاص سے خطیر رقم مذہبی ودینی عمارتوں کی تعمیر میں صرف فرمایا-چنانچہ جب بھی کسی مسجد ومدرسہ کی سنگ بنیاد یاافتتاحی مجلس میں تشریف لے جاتے توخود بھی اس کی تعمیر میں حصہ لیتے اور مریدین کو بھی ترغیب دیتے-
مختار المساجد کچھوچھہ شریف:
مخدوم المشائخ کے ذریعہ تعمیرات کی ابتدا اللہ کے گھر سے ہوئی، کچھوچھہ مقدسہ میںخوب صورت ،دیدہ زیب مختار المسجد آپ کی تعمیرات کا دلکش نمونہ ہے - اس مسجد کی تعمیرمیں آپ نے کسی سے چندہ نہیں مانگا-تقریبا پوری مسجد کی تعمیر آپ کی جیب خاص سے پایۂ تکمیل کو پہنچی-
مسجد اعلی حضرت اشرفی میاں:
یہ مسجدخانقاہ حسنیہ سرکار کلاں کے اندردرگاہ مخدوم سمنانی میں واقع ہے- نہایت خوب صورت، دلکش نظارہ پیش کرتی ہے- یہ مسجد گنبد خضراکی یاد دلاتی ہے- اندرون مسجد سیدنا امام زین  العابدین رضی اللہ عنہ کی مشہور زمانہ نعت ’’ان نلت یاریح الصبا یوماالی ارض الحرم‘‘خوبصورت عربی رسم الخط میں کندہ ہے -شیخ اعظم حضرت علامہ سید اظہار اشرف اشرفی جیلانی علیہ الرحمہ کا ایک فارسی کلام بھی دیوار مسجد پر منقش کندہ کرایاگیاہے- مسجد کو دیکھنے سے اندازہ ہوتاہے کہ حضور مخدوم المشائخ اور حضرت شیخ اعظم کا تعمیری ذوق کس قدر بلند وبالاتھا-
خانقاہ حسنیہ سرکارکلاں:
اعلی حضرت اشرفی میاں علیہ الرحمہ کی روحانی وراثت خانقاہ سرکار کلاں کو حالات زمانہ نے شکستہ عمارت میں تبدیل کردیاتھا- حضرت مخدوم المشائخ نے اسے ایک عالی شان عمارت کی شکل میں مریدین کو مہیاکیا-حضرت شیخ اعظم نے اسے خوب سے خوب تر کرنے کی سعی بلیغ فرمائی - موجودہ صاحب سجادہ قائد ملت حضرت علامہ سید محمد محمود اشرف اشرفی جیلانی مد ظلہ العالی کے دور میں بھی یہ سلسلہ جاری وساری ہے-
مسجد اشرفیہ مالیگاؤں:
حضرت مخدوم المشائخ کے حکم پر اہل مالیگاؤں نے ایک خوب صورت ، نہایت وسیع وکشادہ مسجد ، محلہ خوش آمد پورہ میں تعمیر کی- اس مسجد کی تعمیر میں مخدوم المشائخ نے بھی حصہ لیااور ۲۵؍اپریل ۱۹۸۵ء میں اس کا افتتاح فرمایا-
ہندو بیرون ہندمیںمخدوم المشائخ کی اس طرح کی تعمیری خدمات کا ایک لمباسلسلہ ہے ،جس کے شاہدین آج بھی موجود ہیں- 
مذہبی کانفرنسوں میں شرکت:
حضرت مخدوم المشائخ سرکار کلاں علیہ الرحمہ نے ہندوبیرون ہند بہت ساری کانفرنسوں اور مذہبی وتعلیمی پروگراموں میں شرکت فرمائی - یہاں صرف اندرون ملک کی بعض اہم کانفرنسوں اور جلسوں کا ذکر کیاجاتاہے-
تعلیمی کنونشن جامع اشرف:
یہ کنونشن آپ کی سرپرستی میں منعقد ہوئی جس میں پورے ہندوستان کے عمائدین ملت وقائدین شریعت کی شرکت ہوئی ، یہ کنونشن جامع اشرف کی افتتاحی پروگرام کی حیثیت سے منعقد  ہوئی تھی ، اس میں حضرت مخدوم المشائخ نے ایک جامع خطبۂ صدارت پیش کیاتھا- تعلیمی میدان میں قوم کے سامنے ایک پروجیکٹ اور لائحہ عمل پیش فرمایاتھا- چنانچہ مولانا عثمان غنی اشرفی رقمطراز ہیں:
’’ ۲۷؍محرم الحرام ۱۳۹۸ھ مطابق ۱۹۷۸ء تعلیمی کنونشن جامع اشرف کے موقع پر حضرت نے تاریخی خطبہ دیاجس میں آپ نے علم کی فضلیت، قرآن وحدیث اور تاریخ کے حوالہ سے دل نشیں انداز میں بیان کیا- اس میں جامع اشرف کے قیام پر اپنی بے پناہ مسرت کا اظہار فرمایا، جامع اشرف کو عصری تقاضوں کے مطابق جدید تعلیم سے آراستہ کرنے پر زور وترغیب دلائی گئی، اور اس کے فروغ وارتقا کے لیے عوام کو ایک پیغام دیاگیا- ملاحظہ فرمائیے سرکار کلاں کے خطبۂ صدارت کا ایک اقتباس:’’مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی رضی اللہ المولیٰ عنہ کے آستانۂ عالیہ میں جامع اشرف کا قیام اسی مخدومی فیضانِ مسلسل کی ایک کڑی ہے جو میری بے پناہ مسرت وانبساط کا باعث ہے اور میری دیرینہ آرزؤں کی تکمیل ہے - مخدوم اشرف کے آستانہ سے بہتر علمی اور روحانی تربیت گاہ دوسری جگہ کیسے میسر آسکتی تھی‘‘-[مولانا عثمان غنی، مضمون:سرکارکلاں ماہ وسال کے آئینے میں، سرکار کلاں نمبرص:۹،۱۰-]
مرکز تعلیمات اسلامی میں توسیعی خطاب:
سرزمین علی گڑھ میں ۲۲؍مارچ ۱۹۷۸؍ کو حضرت مخدوم المشائخ کا ورود مسعود ہوا،مرکز تعلیمات اسلامی کے شعبۂ نشر واشاعت نے آپ کی آمد پر استقبالیہ پروگرام رکھا جس میں آپ نے نہایت جامع اور پرمغز توسیعی خطاب فرمایا اور تعلیمات اسلامی کے فروغ وارتقا کے لیے بیش قیمت تجاویز پیش کئے-ادارہ کو ایک خطیر رقم سے نواز ہ اور آئندہ اپناتعاون جاری رکھنے کا وعدہ فرمایا-
اجلاس عام بنارس:
۲۵؍جولائی ۱۹۸۵ء کوبنارس کی سرزمین پر ایک عظیم الشان اجلاس منعقد ہواتھا، اس اجلاس کاساراانتظام مدرسہ حمیدیہ رضویہ بنارس کی طرف سے کیاگیاتھا- سرپرستی حضرت شیخ المشائخ علیہ الرحمہ کی تھی-اس اجلاس میں آپ نے ایک پرمغزخطاب کیاجس کی دھمک برسوں تک اہل بنارس محسوس کرتے رہے- 
عرس چہلم حضرت ریحان ملت:
بریلی شریف کی سرزمین پر ریحان ملت حضرت علامہ ریحان رضاخان علیہ الرحمہ کا عرس چہلم اعلی پیمانے پر منعقد ہواتھا- حضرت مخدوم المشائخ بنفس نفیس اس عرس میں تشریف لے گئے تھے-یہ ۶؍جولائی ۱۹۸۵ء کی بات تھی-
عالمی سنی کانفرنس ممبئی:
عروس البلاد ممبئی میںخصوصاً اور پورے ہندوستان میں عموماجب باطل فرقوں نے نئے عزم وحوصلہ کے ساتھ اپنے بال وپر نکالنے شروع کئے اور اپنی بدعقیدگی کا زہرسنیوں کے اندر پھیلانے لگے تو مخدوم المشائخ نے عالمی سنی کانفرنس کے لیے وقت کے علماء مشائخ سے رابطہ کیا- اس کانفرنس کے سلسلے میںآپ نے دیار عشق ومحبت بریلی شریف کا بھی سفر فرمایااور ریحان ملت حضرت علامہ مفتی ریحان رضا خان علیہ الرحمہ سے فرمایا :اس کانفرنس کے لیے کچھوچھہ شریف یابریلی شریف موزوں ہے مگر بیرون ملک سے آنے والے مہمانوں کا لحاظ کرتے ہوئے ممبئی کا انتخاب کیاگیاہے-غالباً اس کانفرنس میں حضرت ریحان ملت علیہ الرحمہ نے بھی شرکت فرمائی تھی-حضرت مولانا ظہیر الدین صاحب ایڈیٹر استقامت ڈائجسٹ اس کانفرنس میں پیش پیش تھے اور حضرت مخدوم المشائخ نے سرپرستی فرمائی تھی-
حضرت مخدوم المشائخ علیہ الرحمہ ہند وبیرون ہند میں منعقد عظیم دینی جلسوں ، کانفرنسوں میں اپنے آخری ایام تک شریک ہوتے رہے ،ہر ایک کی تفصیل کے لیے فتر درکار ہے -یہاں ہم نے ’’مشتے نمونہ ازخروارے‘‘ آپ کے سامنے پیش کردیاہے-
مذہبی اداروں کی سرپرستی:
اصحاب دعوۃ وتبلیغ کی اصل فیکٹری دینی ومذہبی درسگاہیں ہیں- یہی سے مبلغین ودعاۃ تیارہوتے رہے ہیں-ان ہی اداروں کو اشاعت دین کے اہم مراکز شمار کئے جاتے ہیں - ہر مدرسہ ومذہبی ادارہ کی کامیابی کی پیچھے ایک مضبوط سرپرست یابانی کا ہاتھ ہوتاہے- حضرت مخدوم المشائخ کی سرپرستی میں بہت سارے ایسے ادارے پروان چڑھے ، فروغ سنیت میں جن کااہم کردار رہاہے-ہندوبیرون ہند کے بہت سے مذہبی اداروں نے آپ کی سرپرستی کا شرف حاصل کیا-ہم یہاں چند اداروں کا نہایت اختصار کے ساتھ ذکر کرتے ہیں-
مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم مبارک پور:
اس ادارہ کی سنگ بنیاد اعلی حضرت مولانا الشاہ سید علی حسین اشرفی میاں نے رکھی ہے-زندگی بھر اپنے مریدین ومتوسلین کو اس کی ترویج واشاعت کی طرف راغب کرتے رہے- اپنے وطن کچھوچھہ مقدسہ میں قائم ادارہ ’’جامعہ اشرفیہ‘‘ کو اسی ادارے کی ترقی وعروج پر قربان کردیا- یہ ادارہ آپ کی نیک دعاؤں کی چھاؤں میں پھلتاپھولتارہا- اسی ادارہ کی ترقی یافتہ شکل آج ’’الجامعۃ الاشرفیہ ‘‘ کے نام مشہور ہے، جامعہ اشرفیہ کا ساراانتظام وانصرام مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم کے ماتحت ہے جیساکہ جامعہ کی طرف سے شائع ہونے والے سالانہ کلینڈر، پوسٹروغیرہ سے ظاہر ہوتاہے- 
اعلی حضرت اشرفی میاں علیہ الرحمہ کے وصال کے بعد محدث اعظم ہند علیہ الرحمہ نے اس ادارہ کو اپنے کاندھوں پر لیا-شعلہ بار مقرروخطیب ہونے کی وجہ سے پورے ہندوستان میں ادارہ کا چرچاعام کیا-حضرت محدث اعظم کے بعد ۱۹۶۸ء میں مخدوم المشائخ علیہ الرحمہ اس کے سرپرست ہوئے- آپ اپنے عہد سرپرستی میں ہندوستان کے جلیل القدر علماء کو شامل کارواں کیا، جن میں صدر العلما امام النحو حضرت علامہ غلام جیلانی میرٹھی، پروفیسر معقولات ومنقولات حضرت علامہ سلیمان اشرفی بھاگل پوری، فقیہ النفس حضرت علامہ مفتی عبد الرشید صاحب ناگپوری، جامع علوم حضرت علامہ محمدیونس صاحب نعیمی مرادآبادی، شمس العلماء مصنف قانون شریعت حضرت علامہ شمس الدین صاحب جونپوری علیہم الرحمہ جیسی جلیل القدر ذوات قدسیہ شامل تھیں-لیکن بعض ناگفتہ بہ حالات کے پیش نظر حضرت مخدوم المشائخ کو سرپرست کی حیثیت عرفی سے اور علم وعلم کے ان درخشندہ ستاروں کو رکنیت سے دست بردار ہونا پڑا-یہ واقعہ ۱۹۷۱ء میں پیش آیاتھا-
منصف مزاج، درد منداور حساس طبیعت کے مالک اشخاص کو حضرت مخدوم المشائخ کے سرپرست نہ رہنے سے زیادہ اس بات کا افسوس ہے کہ آج اشرفیہ کے بانی کی حیثیت سے اعلی حضرت اشرفی میاںعلیہ الرحمہ کا نام نامی اسم گرامی بھی نہیں لیاجاتاہے- چنانچہ قاری لئیق احمدصاحب کانپوری لکھتے ہیں: ’’اس [دار العلوم اہل سنت مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم] کی ترقی یافتہ شکل کو الجامعۃ الاشرفیہ کے نام سے جاناجاتاہے ، ظاہر ہے کہ ترقی کے بعد بانی نہیں بدلتا ورنہ ہر شب وروز ترقی پذیر اداروں کے بانیان کرام بدلاکریں گے اور ایک ادارہ کے سینکڑوں بانی نظر آئیںگے، تاریخ کے صفحات پر بے شمار نظیریں اس کی منہ بولتی دلیل ہیں جو اہل علم سے مخفی نہیں - اعلی حضرت اشرفی میاںکا بانی ہونا ایسی زندہ وجاوید حقیقت ہے جس کو لکھتے ہوئے خود حقیقت بھی لرزاں وگریزاں اور حسرت زداں نظرآتی ہے- ایسا محسوس ہوتاہے کہ حقیقت میں اپنا وجود منوانے کے جذبات تقریبا ختم ہوچکے ہیں[قاری لئیق احمد،مضمون: سرکار کلاں اور اداروں کی سرپرستی،سرکار کلاں نمبر،ص:۱۸۰]
جامع اشرف کچھوچھا شریف:
کچھوچھہ مقدسہ میں آباد اس ادارہ کو مخدوم المشائخ کی سرپرستی تادم حیات حاصل رہی - ۱۳۹۴ھ کو خانوادئہ اشرفیہ کے مایہ ناز علماء ومشائخ کے ساتھ مخدوم المشائخ نے جامع اشرف کی آغاز کے لیے ایک نشست بلائی جس میں سربراہان خانوادہ نے آ پ کے اس قدم کو مستحسن اور وقت کی ضرورت قراردیا- ۱۳۹۸ھ میں آپ کی صدارت میں ایک عظیم الشان تعلیمی کنونشن بنام ’’تعلیمی کنونشن جامع اشرف ‘‘ منعقد ہوا جس میں ملک بھر کے علماومشائخ، خانقاہوںکے سجادہ نشینان اور خانوادئہ اشرفیہ کے دانشوران کی شرکت ہوئی -
جامعہ نعیمیہ مرادآباد:
تاریخ کا یہ ایک انوکھاواقعہ ہے کہ مخدوم المشائخ کو جس ادارہ نے اپنی گود میں لیا اسی ادارہ کی آپ نے سرپرستی فرمائی-ہوایوں کہ بانی ادارہ صدر الافاضل ، فخر الاماثل حضرت علامہ مفتی الشاہ سید محمد نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ، خسروئے دربار اعلی حضرت اشرفی میاں تھے-اعلی حضرت اشرفی میاں نے آپ کی جلالت علم کو دیکھتے ہوئے اپنے نورنظر حضرت مخدوم المشائخ کو، تکمیل اعلیٰ تعلیم کے لیے آپ کے سپرد کیا - اشرفی میاں علیہ الرحمہ کے اس اقدام سے حضرت صدر الافاضل علیہ الرحمہ کے ساتھ جامعہ نعیمیہ کی مشام جاں معطر ہوئیں- سرزمین مراد آباد چمنستان  اشرف کے اس گلِ ترسے مہک اٹھی- تکمیل اعلی تعلیم سے فراغت ہوئی ، سند حدیث وفقہ سے نوازے گئے، پھر چند سالوںکے بعد اسی ادارہ کے سرپرست بنادئے گئے-آپ اپنی آخری سانس تک اپنے استاذ گرامی قدر کی اس ملی میراث کی حفاظت وصیانت فرماتے رہے اوربحیثیت سرپرست بحسن وخوبی اس کی ذمہ داریاں نبھاتے رہے-
دار العلوم محمدیہ ممبئی:
مخدوم المشائخ علیہ الرحمہ کے تایازادبرادر ، اشرف العلماء، حضرت علامہ سید شاہ حامد اشرف اشرفی جیلانی علیہ الرحمہ نے ممبئی کی سرزمین پر یہ ادارہ قائم فرمایا- عروس البلاد ممبئی ہی نہیں بلکہ پورے مہاراشٹر میں اہل سنت وجماعت کا یہ مرکزی ادارہ تھا-ادارہ اور بانی ادارہ کی انتھک محنت وکوشش سے ممبئی کی سرزمین میں سنیت کو استحکام وبقاحاصل ہوا-ادارہ نے علماء ومفتیان کرام کی ایک بڑی جماعت قوم کے حوالے کیا-دار العلوم کی روداد تعلیم سے پتہ چلتاہے کہ ابتداہی سے اس ادارہ کو مخدوم المشائخ کی سرپرستی حاصل رہی- اور اپنی آخری وقت تک بحیثیت سرپرست ذمہ داریاں اداکرتے رہے-
جامعہ عربیہ ناگ پور:
جامع علوم وفنون حضرت علامہ مفتی عبد الرشید خان اشرفی ،جامعہ اشرفیہ کچھوچھہ شریف میںلمبے عرصے تک تشنگان علوم کوگوہر علم ومعرفت بانٹتے رہے-حضرت مخدوم المشائخ نے بھی آپ کے ساغر علم سے جام نوش فرمایا- کچھوچھہ شریف کی کامیاب تدریسی زندگی کے بعدآپ نے شہرناگ پور کو رونق بخشی،عوامی ضرورتوں اور تقاضوں کے پیش نظر حضرت مفتی صاحب نے یہ تاریخی ادارہ قائم فرمایااور ادارہ کی سرپرستی اپنے محبوب نظر شاگرد حضرت مخدوم المشائخ کو عطافرمائی-اپنے استاذ گرامی کی اس یادگار کو حضرت مخدوم المشائخ نے بام عروج عطاکیا ، ادارہ کا معیار بلند سے بلند تر ہوتاگیااور بہت قلیل مدت میں مہاراشٹر کے معیاری اداروں کی فہرست میں اپنانام درج کرالیا- حضرت مخدوم المشائخ آخری دم تک اس ادارہ کے سرپرست اعلیٰ رہے اوراہل ناگپور آپ کے قدوم میمنت لزوم سے ہر سال شادکام ہوتے رہے-
قلت صفحات اجازت نہیں دی رہی ہے ورنہ مزید اداروں پر تبصرہ کیاجاتا- سردست ہم یہاں چند مشہوراداروں کے نام نذر قارئین کررہے ہیںجن کو مخدوم المشائخ علیہ الرحمہ کی سرپرستی کا  شرف حاصل رہاہے:[۱] دار العلوام اشرفیہ ، خوش آمدپورہ، مالیگاوں[۲]دار العلوم نور الاسلام، سیفنِی، رام پور[۳] جامعہ خواجہ دانا، سورت، گجرات[۴] مدرسہ اشرفیہ احسن العلوم/ الجامعۃ الاسلامیہ الاشرفیہ ، سیکٹھی ،مبارک پور[۵]دار العلوم اشرفیہ ضیاء العلوم ، خیر آباد، مئو[۶] مدرسہ عربیہ فیض العلوم ، محمد آبادگوہنہ، مئو[۷]دار العلوم اظہار العلوم ، برہان پور[۸]دار العلوم محبوب یزدانی، راج محل، جھاڑکھنڈ[۹]مدرسہ سنیہ صادقیہ ، ناسک مہاراشٹر[۱۰]مدرسہ اجمل العلوم سنبھل مرادآباد[۱۱]دار العلوم اسحاقیہ جودھپور، راجستھان[۱۳]دار العلوم فیضان اشرف ،ناگور راجستھان-
مذہبی وفلاحی تنظیموں کی سربراہی وقیام:
حضرت مخدوم المشائخ سرکار کلاں علیہ الرحمہ کی دور رس نگاہ مسلمان کے گرتے ہوئے اقدار کو دیکھ رہی تھی-اخلاقی اعتبار سے زوال پذیر مسلم معاشرہ کو بلندی عطاکرنے کی خواہش ہمیشہ آپ کے دلوں میں انگڑائیاں لے رہی تھیں، گھریلو جھگڑے،معاشرتی نفرت اور مذہبی فسادات سے مسلم قوم کی حفاظت وصیانت کیسے ہو؟ اس کی فکر آپ کو ستاتی رہتی تھی-ان حالات سے نپٹنے کے لیے آپ نے قومی سطح کی ایک تنظیم کی ضرورت محسوس کی، جو قوم مسلم کے درمیان اتحاد واتفاق کی لہر دوڑادے اور انفرادیت و علیحدگی پسندی کا خاتمہ کردے-چنانچہ کوئی نئی تنظیم قائم نہ کرکے اپنے جد امجد اعلی حضرت اشرفی میاں علیہ الرحمہ کی قائم کردہ تنظیم’’الجمعیۃ الاشرفیہ‘‘ کی نشاۃ ثانیہ کرنا بہتر خیال فرمایا اور پورے ہندوستان میں اس کی شاخیں قائم فرمائیں-
الجمعیۃ الاشرفیہ:
اعلی حضرت اشرفی میاں علیہ الرحمہ کے وصال کے بعد ۱۳۵۵ھ میں آپ نے اس تنظیم کی ذمہ داری سنبھالی- مگرحضرت مخدوم المشائخ کی گوناگوں مصروفیات کی وجہ سے، اس تنظیم کواپنی نشاۃ ثانیہ کے لیے تقریبا تین دھائی تک انتظار کرناپڑا-اس تنظیم نے مسلم نوجوانوںکے اندر تیزی سے پھیلتی برائیوں پرلگام لگایا، سنی مسلمانوںکو بہت حد تک ایک پلیٹ فارم دیا ، مختلف مسلک ومشرب سے وابستہ سنی مسلمانوں کو ایک دوسرے کا احترام وادب کرنا سکھایا-مسلمانوں کو اخلاقی پستی سے اوپراٹھ کر جینے کا سلیقہ دیا اور آپسی بھائی چارہ ومیل جول کا درس دیا- حضرت شیخ المشائخ نے اپنے ولی عہد حضرت مولانا سید اظہار اشرف کی معیت میں تقریباپورے ہندوستان میں اس کی  شاخوں کا جال بچھادیا، بعض شاخوں کااجمالی خاکہ ماہ وسالِ قیام کے ساتھ نذر قارئین ہے:[۱]شاخ تارتیری ۶؍کئی ۱۹۷۲ء [۲]شاخ ماچھی پور،بھاگل پور،بہار،۲؍جون ۱۹۷۲ء[۳] شاخ فتح پور، بھاگل پور،بہار،۱۱؍جون ۱۹۷۲-[۴]شاخ نبی پور، بھروچ گجرات، ۲۲؍جون ۱۹۷۲ء [۵]شاخ شہررام پور،اترپردیش، ۱۱؍جولائی ۱۹۷۲ء -[۶]شاخ تنکاریہ ،بھروچ گجرات، ۱۹؍جولائی۱۹۷۲ء [۷]بلاری، ضلع مرادآباد،۲۰؍جولائی ۱۹۷۲ء-[۸]شاخ جامعہ نعیمیہ مراد آباداترپردیش، ۲۲؍جولائی ۱۹۷۲ء [۹]شاخ جمال پور ،احمد آبادگجرات، ۲۵؍جولائی ۱۹۷۲ء -[۱۰]شاخ رجولی ،گیا، بہار موجودہ جھاڑکھنڈ، ۲؍ستمبر۱۹۷۲ء -[۱۱]شاخ سورت گجرات، ۲۲؍ستمبر ۱۹۷۲ء[۱۲]شاخ کشن گنج ،بہار، ۲۴؍ستمبر ۱۹۷۲ء-[۱۳] شاخ کالوپور، احمد آباد گجرات، ۳۰؍ستمبر۱۹۷۲ء -[۱۴]شاخ مرزاپور اترپردیش،۶؍دسمبر ۱۹۷۲ء -[۱۵]شاخ بھیونڈی ، مہاراشٹر،۱۲؍مارچ ۱۹۷۳ء -[۱۶]شاخ رائے بریلی اتر پردیش ،۱۵؍اپریل ۱۹۷۳ء -[۱۷]شاخ پرتاب گڑھ ،اترپردیش ، ۱۷؍اپریل ۱۹۷۳ء - [۱۸]شاخ گڑیا ، ۱۹؍مئی ۱۹۷۳ء -[۱۹]شاخ سلطان پور ،اتر پردیش ،۲۳؍جون ۱۹۷۳ء [۲۰]شاخ مالیگاؤں،ناسک ،مہاراشٹر ۱۹؍ ربیع الاول ۱۳۹۲ھ -[۲۱] شاخ کان پور، اتر پردیش ،۱۰؍رجب ۱۳۹۲ھ- اس کا شاخ کو سلطان المناظرین ،امین شریعت ،مفتی اعظم کان پور ،خلیفۂ اعلی حضرت اشرفی میاں، حضرت علامہ مفتی رفاقت حسین صاحب اشرفی علیہما الرحمہ کی صدارت نصیب ہوئی-
اس تنظیم کی جملہ شاخوں کاذکر طوالت سے خالی نہ ہوگا - یہاں صرف اہم شاخوں کا نام ذکر کیاگیا ہے-
بیرون ہند تبلیغی دورے:
مخدوم المشائخ سرکار کلاں علیہ الرحمہ نے اپنی زندگی کا دوتہائی حصہ قوم مسلم کی فلاح وصلاح کے وقف کردیا-کلمۂ حق کی بلندی اور دین وسنیت کی نشرواشاعت کے لیے ہندوبیرون کے بے شماردورے کئے-اندرون ملک شاید ہی کوئی ایساشہر باقی بچاہو جس کو آپ کی پابوسی کا شرف نہ ملاہو-ہم یہاں صرف بیرون ملک کے چند دوروں کا ذکر نہایت اختصار کے ساتھ پیش کررہے ہیں- دورئہ برطانیہ:
اہل برطانیہ حضرت شیخ الاسلام علامہ مفتی مدنی اشرف اشرفی جیلانی [مدنی میاں]مدظلہ العالی کے پیرومرشد کے چہرئہ پرانوار کی زیارت کی خواہش برسوں سے اپنے دلوں میں لئے ہوئے تھے- حضرت شیخ الاسلام کے وسیلہ سے انھوں نے سرکار کلاں کی بارگاہ میں سفارش کی- درخواست قبول ہوئی ، اس طرح ۳؍نومبر ۱۹۸۵ء میں اہل برطانیہ کو حضرت شیخ الاسلام کے ساتھ حضرت مخدوم المشائخ کے چہرئہ انور کی زیارت نصیب ہوئی-
دورئہ پاکستان:
اہل پاکستان بہت خوش نصیب ہیں کہ اس سرزمین نے متعدد بار حضرت مخدوم المشائخ علیہ الرحمہ کے قدم چومی ہے- اس ملک میں حضرت مخدوم المشائخ کے لاکھوں کی تعداد میں مریدین اور کثیر خلفاء موجود ہیں-آپ نے متعدد بار پاکستان کا سفر کیا-۱۹۵۶ء،۱۹۵۹ء، ۱۹۶۳ء، ۱۹۹۱ء کے دورے نہایت کامیاب اور اشاعت سنیت کے لحاظ سے بہت اہم ہیں-  
دورئہ بنگلہ دیش:
بنگلہ دیش جب پاکستان سے الگ نہیں ہواتھا ، اس وقت حضرت مخدوم المشائخ نے اس ملک کا دورہ فرمایا- چنانچہ۱۹۵۵ء میں میں پہلا دورہ فرمایا اور محسوس کیا کہ اس ملک میں دین کی خدمت کی سخت ضرورت ہے - اپنے فرزندان شیخ اعظم حضرت علامہ اظہار اشرف اشرفی جیلانی اور انوار المشائخ حضرت علامہ سید انوار اشرف اشرفی جیلانی علیہما الرحمہ کو اس ملک میں فروغ سنیت کی نصیحت فرمائی- حضرت انوار المشائخ سلیس اوربے ساختہ بنگلہ زبان میں خطاب کرنے پرقادر تھے-ان کا انتقال بھی بنگلہ دیش میںہوا-حضرت مخدوم المشائخ علیہ الرحمہ پھر ۱۹۸۲ء اور ۱۹۹۱ء میں بنگلہ دیش کا دورہ فرمایا، آپ کے وصال پر ہندوستان سے زیادہ بنگلہ دیش کی الیکٹرانک میڈیا نے آپ کی سیرت کو کوریج دیا-
دورئہ سری لنکا:
ہندوستانی سرحد سے متصل ہونے کی وجہ سے اہل سری لنکا بھی آپ کی زیارت کے خواہاں تھے- حضرت مخدوم المشائخ علیہ الرحمہ نے ۱۹۹۱ء میںاہل سری لنکا کی اس خواہش کو  پورافرمایا -
مذکورہ ممالک کے علاوہ حضرت مخدوم المشائخ علیہ الرحمہ نے بھوٹان اور نیپال کابھی دورہ فرمایااور کثیر تعداد میںلوگوں نے اپنے دست حق پر بیعت کا شرف حاصل کیا-
علماء ومشائخ کی نیازمندیاں:
حضرت مخدوم المشائخ سرکار کلاں علیہ الرحمہ ہرخانقاہ کے سجادہ نشیں ، ہر درسگاہ کے شیخ الحدیث، ہر دار الافتاء کے مفتی وفقیہ کے محبوب نظر رہے ، سبھی آپ کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور آپ کی راہوں میں پلکیں بچھاتے نظر آتے تھے- ذیل میں چند مشہور علماومشائخ کے بلندکلمات اور ان کی نیاز مندانہ عقیدت کی ایک جھلک پیش ہے-
شیخ اعظم سید اظہار اشرف سجادہ نشیں خانقاہ سرکارکلاں کچھوچھہ شریف:
’’اگر مخدوم المشائخ کی ذات کو ایک ’’باپ‘‘ کی حیثیت سے پیش کی جائے تو بھی اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ ایک ’’مثالی باپ‘‘تھے- ایک مثالی باپ بننا کوئی آسان بات نہیں ، اگرباپ کے حقوق اولاد پرہیں تو باپ پر بھی اولادکے حقوق ہیں ، جن کو پوراکرکے ہی ایک باپ مثالی باپ بن سکتاہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت مخدوم المشائخ نے باپ ہونے کی حیثیت سے اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے سامنے کوئی ایساکام نہیںکیایاکوئی ایسی بات نہیں کہی جس سے اولاد کی تربیت پر برااثرپڑے-
حضرت مخدوم المشائخ میرے پیرومرشد بھی تھے ایسے پیر کامل کہ ان سے مرید ہونے پر مجھے فخر ہے‘‘-[شیخ اعظم سید اظہار اشرف، مضمون: میرے والد میرے مرشد حضرت سرکار کلاں،سرکارکلاں نمبر،ص:۱۴،۱۶،ملخصاً]
نبیرئہ اعلی حضرت علامہ سبحان رضاخان[سبحانی میاں] سجادہ نشیں خانقاہ عالیہ قادریہ رضویہ بریلی شریف:  ’’سرکار کلاں اپنے معاصرین میں ممتاز حیثیت کے مالک تھے، علماکی انجمن میں جاذب نظر اور مرکز نگاہ رہتے تھے، ہزاروں ہزار کے مجمع اہل سنت میں قابل دید شیخ طریقت معلوم ہوتے تھے-نہایت وجیہ ،چہرئہ انور بارعب ، سراپانورِ علم وعمل سے معمور،وجود نسبت سرکار دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی برکات لئے ہوئے ، جس کے متعلق میرے جد کریم مجدداعظم اعلی حضرت امام احمد رضاخان فاضل بریلوی قدس سرہ القوی فرماتے ہیں:
تیری نسل پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا
توہے عین نور تیراسب گھرانہ نورکا
مجھ فقیر رضوی کے والد ماجد حضور ریحان ملت سیدی علامہ شاہ الحاج مفتی ریحان رضان خان صاحب نور اللہ مرقدہ سرکار کلاں علیہ الرحمہ سے قلبی محبت فرماتے اور ان کے ادب واحترام میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑتے- میرے جد کریم حضور مفتی اعظم ہند علامہ شاہ الحاج مصطفی رضاخان صاحب رضی اللہ عنہ کا جب وصال مبارک ہوا تو میرے والد ماجد علیہ الرحمہ نے آپ ہی کو جنازہ کی امامت کے لیے منتخب فرمایا،اور حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کی خواہش کے مطابق کہ میرے جنازہ کی نماز کوئی سید صاحب پڑھائیں ، آپ ہی سے نماز جنازہ پڑھوائی‘‘- [علامہ سبحان رضاخان، مضمون:سرکار کلاں اور ہماراخانوادہ،سرکار کلاں نمبر،ص:۳۱، ۳۲، ملخصاً]
حضرت علامہ مفتی محمود احمد قادری رفاقتی سجادہ نشیں خانقاہ اشرفیہ رفاقتیہ مظفر پوربہار:
’’حضور سرکار کلاں مخدوم المشائخ بندوں کے درمیان خدائے پاک کی خاص نشانی ہیں - آپ کی بلند مقامی اعترات واقرار کی محتاج نہیں- ان کے علومرتبت کا اعتراف واقرار قلب کی تطہیر کرتاہے - حضور مخدوم المشائخ کے فیوض وبرکات سے ایک جہاں فیض یاب ہے‘‘-[حیات مخدوم الاولیا، ص:۴۵۹،امین شریعت ٹرسٹ مظفر ہور بہار،۲۰۰۱] 
حضرت علامہ سید شاہ محمد اشتیاق عالم ضیاءؔ شہبازی سجادہ نشیں خانقاہ شہبازیہ بھاگل پور،بہار:  
’’حضرت سرکارکلاں کا حسن سلوک اپنے دامن میں مروت کی وسیع کائنات سمیٹے ہوئے تھے- جس کے اندر آل واولاد، اعزہ واقربا، رفقا واحباب، علماوصوفیا، مریدین ومعتقدین، خدام وغلامان، آشنا وناآشناسب کے سب مجتمع نظر آتے تھے- ہرایک پر ان کی نگاہ عالی حسب مراتب بھرپور پڑتی تھی- ایساکبھی دیکھنے میں نہ آیاکہ سلوک کے تقاضے برہنہ کھڑے ہوں-اور ان کے حسن سلوک کا سائبان تنگ پڑگیاہو- جن مدارس،مکاتب اور اداروں کی اعانت فرمائی تادم آخر فرمائی- حالات چاہے کتنے ہی غیر سنجیدہ کیوں نہ ہوگئے ہوں مگر آپ اپنی وضعداری سے کبھی باز نہ آئے - مسافر ،حاجت مند، سوالی، غریب ،مفلس،بھکاری سب کی جھولیاں بھرتے رہے‘‘-[علامہ اشتیاق بھاگلپوری، مضموں:سرکار کلاں کی سدابہار شخصیت اخلاق وکردار کے آئینے میں، سرکار کلاں نمبر،ص:۳۷-]
حضرت علامہ سید محمد اجمل حسین اشرفی جیلانی سجادہ نشیں خانقاہ اشرفیہ جہانگیریہ کچھوچھہ شریف:
’’پورے عالم اسلام کو فیضان سرمدی سے آشنا کرنے والی یہ ذات اپنے اوصاف حمیدہ ،زہد وتقوی، شرم وحیا، فقر واستغنااور عبادت وریاضت شاقہ کی بناپر مرجع خلائق بھی رہی اور مرجع خانوادہ بھی- خانوادئہ اشرفیہ کے بیشتر علماومشائخ اسی ذات بابرکت سے وابستہ ،ماذون ومجاز ہوئے اور آج بھی ہیں-بیشمار سلاسل روحانیہ سے بہرہ ور اس فرید عصر نے اپنے خانوادہ کوخوب خوب نوازا‘‘-[علامہ سید اجمل حسین، مضمون:سرکار کلاں علیہ الرحمہ، سرکارکلاں نمبر،ص:۴۱]
حضرت علامہ عبد الحمید سالم قادری سجادہ نشیں آستانۂ عالیہ قادریہ بدایوں شریف:
’’سرکار کلاں علیہ الرحمہ اپنے معاصرین مشائخ میں ایک ممتاز حیثیت کے مالک تھے- بڑے دادا کے سچے جانشیں اور بڑے خاندان میں فخرخاندان تھے- اس فقیر پر حضرت علیہ الرحمہ بزرگانہ شفقت فرماتے اور جب بھی سکھانوں آناہوتا مدرسہ قادریہ آکر دعاؤں سے نوازتے تھے‘‘-[سرکار کلاں نمبر،باب تأثرات، ص:۲۴۳؍]
حضرت علامہ محمد حسنین نظامی سجادہ نشین خانقاہ عالیہ نیازیہ بریلی شریف:
’’سرکار کلاں کے کلام وبیان میں بڑی تاثیر پائی جاتی تھی، آپ جتنے زبردست عالم شریعت تھے ویسے ہی عامل طریقت بھی تھے- بایں سبب مجھ کو بھی ان سے قلبی لگاؤ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان کے ایک خاص مرید سید مقبول حسین اشرفی مرحوم بریلی میں محلہ ذخیرہ میں رہتے تھے اور خانقاہ عالیہ نیازیہ میں روز کے حاضرباش تھے- مقبول حسین اشرفی سرکارکلاں کی ہی ہدایت پر خانقاہ نیازیہ میں حاضری دیتے تھے‘‘-[علامہ حسنین نظامی، مضمون:سرکار کلاں اور خانقاہ نیازیہ بریلی شریف کے روابط، سرکارکلاں نمبر،ص:۲۴۶]
نقیب رضویت مفتی شاہد علی رضوی رامپوری:
’’حضرت سرکار کلاں کی ذات محتاج تعارف نہیں، اپنے زمانے کے نہ صرف ایک صوفیِ کامل مرشد اعظم تھے؛ بلکہ جید عالم دین اور فقیہ النفس مفتی بھی تھے- مدرسہ اور خانقاہ دونوںسے آپ کا گہراتعلق تھا- یہی وجہ ہے کہ رموز اسرار شریعت کے ساتھ ساتھ طریقت ومعرفت کی صحیح ترجمانی آپ کی زبانی ہواکرتی تھی- حضور سرکار کلاں کے رامپور قیام کے دوران کی مجلس میں جانے کا اکثر اتفاق ہوا،شریعت وطریقت کے ایسے پیچیدہ پیچیدہ مسائل آپ کی زبان مبارک سے سناکرتاتھا جو عام طور سے پیران عظام بیان نہیں کرتے - ایک بار میںنے سوال کیا :حضور!درس گاہ  اور خانقاہ میں کیارابطہ ہے؟ تو حضرت قبلہ گاہی نے ارشاد فرمایا:علم اور عشق دونوں میں پہلاحرف عین ہے- عین عربی میں آنکھ کوکہتے ہیں- اللہ تعالیٰ نے حق دیکھنے کے لیے دوآنکھیں ہر انسان کو عطاکی ہیں- ایک علم کی آنکھ ہے اور دوسری عشق کی آنکھ- جس کی ایک آنکھ ہو اسے کانا کہتے ہیں - کان فعل ناقص ہے جو بغیر اسم وخبر کے تام نہیںہوتا-
علم درس گاہ سے ملتاہے اور عشق خانقاہ سے - اس لیے دونوں کے درمیان رابطہ ضروری ہے - پہلے کے لوگ دونوں سے مضبوط رابطہ رکھتے تھے اور کامیاب تھے، دنیامیں بھی اور آخرت میں بھی- آج یہ بٹواراہوگیا جو درس گاہ سے جڑے وہ خانقاہ سے دور نظر آتے ہیں - آج بھی جو حضرات درس گاہ اور خانقاہ دونوں سے وابستہ ہیں ، اخلاق کے ساتھ وہ کامیاب ہیں اور کامیاب رہیں گے‘‘-[سرکار کلاں نمبر ،باب تأثرات، ص: ۲۴۹]
حضرت علامہ سید محمد اسلم وامقی اشرفی نائب سجادہ نشیں خانقاہ اشرفیہ وامقیہ بریلی شریف:
’’۱۹۴۸ء میں سرکار کلاں شیخ المشائخ حضرت سید محمد مختار اشرف اشرفی جیلانی علیہ الرحمہ بریلی شریف تشریف لائے اور سلسلے کی نسبت سے موصوف نے خانقاہ وامقیہ نشاطیہ میں قیام فرمایا- اس تاریخ ساز موقع پر سینکڑوں لوگ آپ کے حلقہ ٔ ارادت میں شامل ہوئے - اسی موقع پر حضرت سید نشاط میاں [سجادہ نشیں خانقاہ وامقیہ] نے موصوف سے فرزند کی ولادت کے لیے دعاکی درخواست کی - حضرت سرکارکلاں نے آپ کی اہلیہ محترمہ سے فرمایا کہ:آپ کے ایک پاک باز فرزند ارجمند ہوگا - اور ساتھ اس فرزند کا نام سید محمد اشرف محمد میاں تجویز فرمایا- اس طرح حضرت سرکارکلاںکی زندہ جاوید کرامت اور دعاؤں کے سبب ۱۹۵۰ء میں سید محمد اشرف محمدمیاں کی ولادت ہوئی اور خانوادہ کے عظیم الرمرتبت بزرگ حضرت سید محمد مجتبیٰ اشرف اشرفی جیلانی نے رسم بسم اللہ خوانی اداکروائی-  ایک مرتبہ بدایوں سے سلیمان بھائی برادراکبر پر فالج کا حملہ، ملازمت سے پریشان اور مقدمہ سے دوچار ،سرکارکلاں کی بارگاہ میں حاضرہوئے - موصوف نے صاحب سجادہ حضرت سید محمد میاں اشرفی وامقی نشاطی سے کہاکہ ان کو ایک تعویذ بناکر دے دیں- ان کی تینوں مشکلات حل ہوجائیں گی- حکم کے مطابق صاحب سجادہ نے تعویذ عطاکیا اور سرکارکلاں نے دعافرمائی - چند ایام کے بعد سلیمان بھائی خانقاہ وامقیہ میں حاضر ہوئے اور بیان کیاکہ سرکار کلاں کی دعاؤںسے میری تینوں پریشانیاں ختم ہوگئیں‘‘[علامہ سید محمد اسلم وامقی،مضمون اشرفی فیضان بریلی، سرکارکلاں نمبر،ص:۲۴۷،۲۴۸]
علماء ومشائخ کے مذکورہ بیانات سے اہل عقل ودانش حضرت مخدوم المشائخ علیہ الرحمہ کی سیرت وکردار، اخلاق واطوار ،عبادت وریاضت اور کشف وکرامت کا بخوبی انداہ لگاسکتے ہیں- لہذا ہمیں ان عنوانات پر مزید روشنی ڈالنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے-جن حضرات کو تفصیل مطلوب ہو وہ حضرات مخدوم المشائخ علیہ الرحمہ کی سیرت وسوانح پر لکھی گئی کتابوں کا مطالعہ فرمائیں ، انشاء اللہ تعالیٰ سکون قلب اور تسکین روح حاصل ہوگی-
ذیل میں ہم چند سطور کا اضافہ صرف اس بات کا اندازہ لگانے کے لیے کر رہے ہیں کہ حضرت شیخ المشائخ علیہ الرحمہ کے سامنے علم وعمل کے تاجدار حضرت کس انداز سے زانوے ادب تہ کرتے تھے- اور آپ کے مراتب علیا کا کتناخیال فرماتے تھے-
عمدۃ المحققین حضرت علامہ مفتی حبیب اللہ صاحب نعیمی علیہ الرحمہ[۱۹۱۷ء -۱۹۷۵ء]کی ذات سے کون ناواقف ہوگا- آپ نے ہزاروں کی تعداد میں شاگرد پیداکئے- سینکڑوں کی تعداد میں جلیل القدر علمائے فقہ وحدیث آپ کی درس گاہ کے خوشہ چیں رہے- اکابرین ہند کی ایک بڑی جماعت نے آپ سے اکتساب کیا- ایسی علمی شخصیت جب حضرت مخدوم المشائخ سرکارکلاں علیہ الرحمہ کے روبروہوتی تو کیسا منظر ہوتا، خود ان کے صاحب زادے حضرت علامہ محمد شاہد رضا نعیمی کی زبانی سنیے:
’’جب کچھوچھہ شریف حاضرہوتے تو عجیب کیفیت ہوتی- ایسالگتاکہ جامعہ نعیمیہ کے دار الحدیث کا امیر،بارگاہ اشرف کافقیر بن کر محو استغراق ہے- اپنے پیر ومرشد کے حضور میں ہمیشہ ان کو دوزانو باادب بیٹھتے ہوئے دیکھا- اگر چہ آپ کی آواز بلندتھی ، جامعہ میں گرج دار آواز لگاتے تو کونے کونے میں آواز پہنچ جاتی- لیکن حضرت مخدوم المشائخ علیہ الرحمہ کی مجلس میں ہمیشہ پست آواز رہتی- بلکہ زیادہ ترخاموشی طاری ہوتی، نگاہوںکو جھکاکر بیٹھتے-جامعہ نعیمیہ میں اپنے پیرومرشد کے قیام کے دوران ،تعلیم وتدریس کے علاوہ ،دیگر تما مصروفیات کو ترک کردیتے- ان کے ساتھ شہر میں ہرجگہ جاتے- قرب وجوار کے پروگرام میں بھی ایک خادم کی حیثیت سے ہمراہ ہوتے- جب سرکار کلاں علیہ الرحمہ مرادآباد سے بذریعہ ٹرین کسی اور جگہ کے لیے روانہ ہوتے ،تو رخصت کرنے کے لیے ریلوے اسٹیشن پر حاضر ہوتے - دست بوسی وقدم بوسی کرتے- [حبیب الفتاوی، مقدمہ ،ص:۱۳،ناشر:السید محمد اشرف دار التحقیق والتصنیف ،کچھوچھہ شریف ۲۰۱۳ء] 
مخدوم المشائخ حضرت محدث اعظم کی نظر میں:
مخدوم الملت ، محدث اعظم ہند حضرت علامہ مفتی الشاہ سید محمد اشرف اشرفی جیلانی علیہ الرحمہ کی ذات ستودہ صفات سے اہل سنت کا بچہ بچہ واقف ہے- آپ جس کے حق میں جو بات کہہ دیتے وہ سند کی حیثیت اختیار کرلیتی-ایسی عظیم المرتبت ذات گرامی نے مخدوم المشائخ سرکار کلاں علیہ الرحمہ کی کس انداز میں مدح سرائی کی ہے ، سنئے اور سردھنتے رہیے- ہم اس مدح سرائی کی منظر کشی ڈاکٹر صابر سنبھلی مرادآبادی صاحب کے لفظوں میں پیش کررہے ہیں:
’’حضرت مخدوم المشائخ کوئی ماضی کی شخصیت نہیں تھے، حضرت[محدث اعظم ہند علیہ الرحمہ]کے ہم عصر تھے- ہم عصر ہونے کے ساتھ ساتھ برادر نسبتی تھے- عموماً بہنوئیوں کی نظر میں برادرانِ زوجہ عزیز تو ہوتے ہیں مگر محترم کم ہوتے ہیں- حضرت شیخ المشائخ حضرت محدث اعظم ہند کی نظر میں محترم ومعظم بھی تھے - ایک قطعہ ملاحظہ فرمائیے: 
بنازم گرتو بر فرقم نشینی
کہ بہر اشرفیاں نازنینی
جناب سید مختار اشرف
بنازد برتو سجادہ نشینی
کسی ذات پر کسی شاعرکا ناز کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے- مگر جب شاعر صرف شاعر نہ ہوبلکہ محدث اعظم بھی ہو تو اس کا ناز کرنا اہمیت رکھتاہے - خصوصا جبکہ وہ شخصیات ورجال کی شناخت میں بھی یدطولی رکھتاہے - اور یہ بھی ملاحظہ فرمائیے کہ:ناز کس بات پر ہے ؟ اس بات پر نہیںکہ ممدوح سے شاعر کی قرابت داری ہے ، اس بات پر نہیں کہ ممدوح شاعر کا ہم عصر ہے یاہم وطن ہے- اس بات پر بھی نہیں کہ لوگ دونوں کے تعلق خاطر سے واقف ہیں - بلکہ ناز ہے تو اس بات پر کہ ممدوح ،شاعرکے سرکو اپنی نشست گاہ بنائے اور سرپر قدم رکھے-
چوتھا مصرع قطعۂ ہذا کی روح ہے ، پہلے مصرع میں تو شاعر خود ہی نازاں تھا اور اس بات پر نازاں تھا کہ ممدوح کے قدم اس کے سرکا تاج ہوں - مگر چوتھے مصرع میںجو تأثرات بیان کئے ہیں وہ ممدوح کا مرتبہ بہت بلند کررہے ہیں ، حضرت شیخ المشائخ پر سجادہ نشینی ناز کرتی ہے-سبحان اللہ ‘‘-[ڈاکٹر صابر سنبھلی ، مضمون: حضرت شیخ المشائخ اور محدث اعظم ہند علیہما الرحمہ، سرکارکلاں نمبر،ص:۱۱۰]
بارگاہ مخدوم المشائخ میں حضرت شیخ الاسلام کا خراج عقیدت:
محقق عصر ،شیخ الاسلام حضرت علامہ سید شاہ محمد مدنی اشرفی جیلانی مدظلہ العالی ،آبروئے خانوادئہ اشرفیہ ہیں، مفسر قرآن ہیں ، پرتوے محدث اعظم ہند ہیں، جانشیں مخدوم الملت ہیں-اپنے تو اپنے غیر بھی آپ کا نام ادب سے لیتے ہیں- نہایت علمی اور محتاط شخصیت کانام مدنی میاں ہے- عرس چہلم کے موقع پر انھوں نے ایک جامع تقریر بطور خراج عقیدت بارگاہ مخدوم المشائخ میں نذرکی تھی یہاں اسی تقریر دل پذیر کے چند اقتباسات پیش کرنے کی سعادت ہم حاصل کر رہے ہیں-حضرت مخدوم المشائخ علیہ الرحمہ کی ولایت کے سلسلے میں حضرت شیخ الاسلام فرماتے ہیں:
’’فضل کا معاملہ ہی کچھ اور ہے -اگر کسی کوولایت کا مقام محنت سے حاصل ہو توخطرہ رہتاہے ، کہیں محنت کم ہوئی تو معاملہ غائب نہ ہوجائے اور جس کو رب تبارک وتعالی اپنے فضل سے دے دے ، اس کی ولایت پر آنچ نہیں آتی- تو ہم جس کی یاد میں بیٹھے ہیں ، اس نے ولایت کا درجہ اپنی محنت سے حاصل نہیں کیا ؛کیوں کہ حضرت اشرفی میاں نے ان کے بچپنے ہی میں کہاتھاکہ میرایہ پوتاولی ہے ، تو خدانے ولی بناکر ہی پیداکیا اور ولی کی آغوش میں تربیت کے لیے دے دیا‘‘[شیخ الاسلام کا خراج عقیدت بارگاہ سرکار کلاں میں ،ص:۲۲؍ناشر جمعیۃ الاشرف اسٹوڈینٹس مومنٹ جامع اشرف کچھوچھہ شریف]
پھر مذہبی شخصیات اورمذہبی کتابوں کی روشنی میں ولی کی متعدد تعریفیں بیان فرمانے کے بعد ، حضرت شیخ الاسلام یوں گویاہوتے ہیں:
’’حضرت مخدوم المشائخ نے جو وصیت نامہ دیاہے اس وصیت نامہ کو سن کے پتہ چلاکہ سب سے بڑے نفس کے دشمن یہی تھے،جس کی زندگی تقوی وطہارت میں گزری ہو- میں آپ کو بتاؤں کہ غیر کو توسبھی مانتے ہیں- اپناشہر چھوڑ کرہم سب سے بڑے متقی بھی بن سکتے ہیں ، ہم عالم کا ڈھونگ بھی رچا سکتے ہیں- نہ جانے کیاکیا القاب ہم خود ہی ایجادکرکے پھیلاسکتے ہیں-کچھ بھی کرسکتے ہیں،گھروالوں کو نہیں منواسکتے-گھروالاہمارابچپنابھی دیکھتاہے، ہماری جوانی بھی دیکھ چکاہے ، ہمارے صبح وشام کو دیکھ چکاہے - گھروالے کو جھکانا ہماری بس کی بات نہیں ہے- اسی لیے نبی کریم کی سچائی کی سب بڑی دلیل یہ ہے کہ سب سے پہلے ایمان لانے والی ان کی بیوی، سب سے پہلے ایمان لانے والاان کا بھائی، سب سے پہلے ایمان لانے والاان کاساتھی ہے- جو قریب تھا لپک گیا- توحضرت مخدوم المشائخ کی سب بڑی دلیل یہ ہے کہ ان کے  خاندان کا بڑا،بوڑھامرید ان ہی کا ہے ، کہیں نہیں گیا- اپنے گھر میں ہیراہوتو دوسری جگہ جانے کی ضرورت ہی کیا؟بچہ بھی جھک رہاہے ، بیوی بھی جھک رہی ہے‘‘-
زندگی بھر تقوی وطہارت کی زندگی گزارنے والا جب جاتاہے تو کہتاہے : میں سب سے زیادہ گناہ گارہوں میں سب زیادہ سیاہ کار ہوں- اپنے معتقدین سے وہ مغفرت چاہتاہے ،دعائے مغفرت کروتم- اپنے خاندان والوں سے وہ معافی مانگتاہے - آپ خیال کرو !سوچو! کتنے بڑے نفس کے دشمن تھے کہ نفس کا مکر یہاں نہیں چلا ، بڑائی کا سودانہیں پیداہوا ، مقام کی عظمتوں سے دھوکانہیںکھایا ، ذراساآپ دیکھیں یہ کتنی بڑی عظمت کی بات ہے کہ نفس کا دھوکا نہیں ہوا، توولی وہی ہے‘‘ [مرجع سابق ص: ۲۷، ۲۹ ملخصاً]
 حضرت شیخ الاسلام بارگاہ مخدوم المشائخ میں:
حضرت شیخ الاسلام مدظلہ العالی ، حضرت مخدوم المشائخ علیہ الرحمہ کے مرید ہیں - اپنے مرید ہونے کا واقعہ خودان ہی کے الفاظ میں پیش ہے:
’’میں اپناواقعہ بتاؤں کہ والد بزرگوار کی بارگاہ میں ، میں مرید ہونے کے خیال سے طالب علمی کے دور میں گیاتھا- حضرت نے پہلے اپنے انداز میں اس طرح کہاکہ: میری سنت پر عمل کرناچاہتے ہوتو میں اپنے ماموں سے مرید ہوا، تم اپنے ماموں سے ہوجاؤ- یہ بات میں نے سنی، پھرآئی گئی، اور پھر اس کے بعد دوران تعلیم میں میرے دل میں والد بزرگوار ہی سے تھا کہ میں انھیں سے بیعت ہوں- جوبات میرے دل کی ہے وہ میں عرض کررہاہوں، مگر حضرت نے یہ کہا- اس کے بعد پھر کیاہواکہ میں نے مبارک پور میں خواب دیکھاکہ میں حضرت کی پرانی قیام گاہ پر، وہاںجہاں پر حضرت بیٹھتے تھے، اور آکر کے میں بیٹھا، دوبزرگوار بیٹھے تھے، میں پوچھا حضرت سے:محبت عقیدت تو تھی ہی،لیکن یہ اور بات تھی  کہ میں چاہتاتھا کہ والد بزرگوار سے مرید ہوجاؤں، تو معلوم ہواکہ حضرت سرکارکلاں ابھی آنے والے ہیں- آپ آئے اور آنے کے بعد بیٹھ گئے- ہاتھ پکڑااور رات ہی کو مرید کرلیا- اس خواب کا بیان میں نے حضرت ماموں جان صاحب قبلہ سے بھی مبارک پور میں کیاتھا، پتہ نہیں آپ کو یاد ہے یا نہیں، تو آپ نے بھی کہاتھا کہ لگتاہے کہ تمہاراحصہ وہیں ہے- مگر پھر جب میں دوبارہ یہاں آیا، اپنے والد بزرگوار سے میں نے کہا والدہ کے ذریعہ، ہمت تو تھی نہیں بات کرنے کی، تو اس وقت حضرت نے پر جلال انداز میں فرمایا: تمہیں تو انھیں سے ہوناہے- اس کے بعد بات ختم ہوگئی- اس درمیان حضرت کا وصال ہی ہوگیااور جو بات حضرت نے فرمائی تھی وہ عالم وجود میں آئی، حضرت کو اسی گھر میں بلایاگیا، چھوٹے ،بڑے،بچے اس وقت موجود تھے،چادر حضرت نے پھیلادیا، اور سبھوں نے پکڑلیا، اور میں نے بھی چادر پکڑلی توحضرت نے کھینچ کر میراہاتھ پکڑلیا، تو میں نے سمجھ لیاکہ یہ خواب کی تعبیر ہورہی ہے- تو پھر جب میں نے حضرت سے یہ خواب بیان کیا، تو حضرت مسکرائے بہت، تو آپ کیا سمجھے ؟ والد بزرگوار نے جو راستہ مجھے دکھایا وہ کچھ سمجھ کردکھایا، اس کے آگے بھیجا جس کا بچپن بھی دیکھا، جس کی جوانی بھی دیکھی، وہ اپنے بیٹے کو گمراہ نہیں کرسکتے تھے، اپنے بیٹے کو غلط راستہ پر نہیں لگاسکتے تھے، انھوں نے ادھر کردیا جو ان کے نزدیک افضل تھا-[نفس مرجع ،ص: ۲۷،۲۸،۲۹]
حضرت محدث اعظم ہند علیہ الرحمہ اور حضرت شیخ الاسلام مد ظلہ العالی کے نزدیک، حضرت مخدوم المشائخ علیہ الرحمہ کا مقام بہت بلند وبالا ہے - تو ایسی ذات کے سلسلے میں کسی اور کی گواہی وشہادت کی کوئی ضرورت نہیں ہے-
مریدین وخلفائے کرام:
مخدوم المشائخ کے مریدین وخلفاء کا کوئی باضابطہ رجسٹر نہیں ہے - ہند وبیرون ہند کثیر  تعداد میں مرید ین ہیں - اعلی حضرت اشرفی میاں علیہ الرحمہ کے بعد خانوادئہ اشرفیہ کے پیران عظام ومشائخ کرام میں سب سے زیادہ مریدن مخدوم المشائخ ہی کے ہیں- اسی طرح آپ کے خلفابھی کثیر ہیں - ایک محتاط اندازہ کے مطابق آپ کے خلفا دوسو کے قریب ہیں- جن میں اکثر نابغۂ روزگار ہیں ، علم وفضل کے تاجدار ہیں، اسلام وسنیت کے روشن مینار ہیں ، قابل صدرشک وافتخار ہیں- 
 خانوادئہ اشرفیہ کے تقریبا سارے مشائخ ،حضرت شیخ المشائخ سرکارکلاں علیہ الرحمہ کے مرید یاماذون ہیں،ان حضرات کے اسمائے گرامی یہاں درج کرنا مقصود نہیں ہے-یہاںمشائخِ خانوادئہ اشرفیہ کے علاوہ صرف ایسے اہل علم ودانش،صاحبان خانقاہ ومدرسہ، علمائے کرام اور مفتیان عظام خلفاء میں سے بعض کا ذکر مقصودہے -دین وسنیت میں کسی نہ کسی طرح سے جن کی خدمات قابل تقلید ہیں- فہرست میں ان نفوس قدسیہ کے مراتب ودرجات کا لحاظ نہیںکیاگیاہے ؛بلکہ ان عظیم ہستیوں کے ناموںکے ذکرسے مقصود ،صرف مقالہ کاوقار ہے-  چند چند خلفائے اجلہ نام یہ ہیں:
[۱] حضرت علامہ مفتی حبیب اللہ اشرفی نعیمی ،سابق صدر مفتی جامعہ نعیمیہ مراد آباد۔  [۲] حضرت علامہ مفتی ایوب ،صدر مفتی جامعہ نعیمیہ مراد آباد۔  [۳]حضرت علامہ مفتی طریق اللہ اشرفی ، شیخ الحدیث جامعہ نعیمیہ مرادآباد۔  [۴] حضرت علامہ مفتی غلام مجتبیٰ اشرفی ،سابق شیخ الحدیث منظر اسلام بریلی شریف۔[۵]حضرت علامہ مفتی عبد الجلیل اشرفی، سابق صدر مفتی جامع اشرف کچھوچھہ شریف۔[۶]حضرت علامہ مفتی رضاء الحق اشرفی ، اشرفی محقق علوم ،السید محمود اشرف دار التحقیق جامع اشرف کچھوچھہ شریف۔[۷]حضرت علامہ پروفیسر محمد ہاشم اشرفی ، شیخ المعقولات جامعہ نعیمیہ مراد آباد۔[۸]حضرت علامہ محمد یامین اشرفی ،مہتمم جامعہ نعیمیہ مراد آباد۔[۹]حضرت علامہ مفتی قمر الدین اشرفی ، موریشس۔ [۱۰]حضرت علامہ اسرار الحق اشرفی، ہالینڈ۔[۱۱]حضرت علامہ مفتی نصیر الدین اشرفی، ناصرملت۔[۱۲]حضرت علامہ مفتی گل رحمان،یو۔کے۔[۱۳]حضرت علامہ ابراہیم اشرفی ،ممبئی۔[۱۴]حضرت علامہ عبد القادر اشرفی ،ممبئی۔[۱۵]حضرت علامہ محمد اقبال اشرفی ،دبئی۔[۱۶]حضرت علامہ محمد رفیق عالم اشرفی۔[۱۷]حضرت علامہ محمد عزیزالرحمان اشرفی ،برہان پور۔[۱۸]حضرت علامہ طبیب الدین اشرفی، بھاگل پور۔[۱۹]حضرت علامہ فیض الرحمان اشرفی ،ماچھی پور،بھاگل پور۔ [۲۰]حضرت علامہ ممتاز عالم صاحب اشرفی۔ [۲۱]حضرت علامہ خلیل اطہر اشرفی، رامپور۔[۲۲]حضرت علامہ مفتی قاسم اشرفی ، کٹیہار۔ [۲۳]حضرت علامہ محمد حسن حقانی اشرفی۔[۲۴]حضرت علامہ سید آل حسن اشرفی ۔[۲۵]حضرت علامہ ہاشم رضا اشرفی ،کان پور۔ [۲۶]حضرت علامہ محمد شاہدین اشرفی۔[۲۷]حضرت علامہ مفتی شبیر احمد دہلوی ثم کراچوی، مرید محدث اعظم ہند۔[۲۸]حضرت علامہ امین الحسنات سید خلیل احمد اشرفی،پاکستان۔[۲۹]حضرت علامہ صاحب زادہ سید مسعود احمد رضوی اشرفی ،پاکستان۔[۳۰]حضرت علامہ مفتی محب اللہ نوری اشرفی،پاکستان۔[۳۱]حضرت علامہ مفتی سید سعادت علی قادری اشرفی ،پاکستان۔[۳۲]حضرت علامہ سید شاہ محمود احمد رضوی اشرفی محدث لاہوری،پاکستان۔[۳۳]حضرت علامہ عبد الستار اشرفی [مدینہ منورہ]۔[۳۴]حضرت علامہ قاری احمدجمال اشرفی ، شیخ التجویدجامعہ امجدیہ گھوسی۔
اب ہم اپنے مقالے کا اختتام حضرت مفتی محمود احمد قادری اشرفی رفاقتی کے ان کلمات سے کرتے ہیں کہ:
’’ آپ [مظہر غوث سمناں، امام اہل سنت، آفتاب اشرفیت ،مخدوم المشائخ ، سرکار کلاں الحاج الشاہ حضرت علامہ مفتی سیدمحمد مختار اشرف اشرفی جیلانی علیہ الرحمہ]کی بلند مقامی اعتراف واقرار کی محتاج نہیں- ان کے علومرتبت کا اعتراف و اقرار قلب کی تطہیر کرتا ہے۔"
انتقال پرملال:
سرکار کلاں الحاج الشاہ حضرت علامہ مفتی سیدمحمد مختار اشرف اشرفی جیلانی علیہ الرحمہ کا انتقال  9 رجب 1417ھ/1 نومبر 1996ء کو ہوا۔ نماز جنازہ  مخدوم العلماء شیخ الاعظم حضرت علامہ مولانا سید اظہار اشرف اشرفی الجیلانی نے پڑھائی ۔ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد محمود احمد اشرفی رفاقتی نے’’سیدی مختار اشرف‘‘ سے تاریخ وصال اخذ کیا۔

No comments:

Post a Comment