Breaking

Search This Blog

ShaikhulIslaam Android App

Saturday, September 21, 2019

مخدوم شیخ رکن الدین شہباز خلفی مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی

مخدوم شیخ رکن الدین شہبارخلیفۂ مخدوم سید اشرف جہاںگیر سمنانی

[بموقع عرس مقدس منعقدہ 22،23 محرم الحرام 1441ھ خصوصی پیش کش]

غوث العالم ،محبوب یزدانی ،مخدوم سیداشرف جہاںگیر سمنانی کچھوچھوی کے اکابر خلفائے کرام میں ایک روشن نام مخدوم شیخ رکن الدین شہباز چشتی اشرفی علیہ الرحمہ کا آتاہے۔ آپ کا شمارمخدوم سیداشرف جہانگیرکے ان ’’اصحاب ثلاثہ‘‘ میں ہوتا ہے جو ’’اصحاب سیروطیر‘‘ کہلاتے تھے ۔یعنی یہ وہ شخصیتیں تھیں جولمحوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ اپنی روحانی طاقت سے پہنچ سکتی تھیں اورپلک جھکتے واپس آسکتی تھیں۔
مخدوم سید اشرف جہاں گیر سمنانی کچھوچھوی کے نانا حضرت خواجہ احمد یسوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے مخدوم رکن الدین شہبازاشرفی کا شجرئہ نسب ملتا ہے ۔یہی وجہ ہےکہ آپ ان سے بے حد محبت فرماتے تھے۔ آپ نے جب دوسری بار سیاحت عالَم اور حج بیت اللہ سےمراجعت فرمائے ہند ہوئے تو یہ حضرت بھی آپ کے ہم رکاب آئے ،پھر کبھی آپ سے جدا نہیں ہوئے۔آپ ان پر بے حد مہربان تھے اور ایسی شفقت فرماتے تھے کہ دوسرروں پر ایسی شفقت بہت کم دیکھنے میں آئی۔
  اطراف کچھوچھہ مقدسہ میں ایک جگہ ’’نبی پورہ‘‘ نام کی ہے جو اب’’نئی پورہ‘‘سے مشہورہے۔قصبہ ٹانڈہ سے تقریبا16 کیلومیٹرکے فاصلے پر واقع ہے۔یہ جگہ گھاگھرا[سرجو]ندی کے کنارے ہونے کی وجہ سےسرسبزوشاداب ہے، جب مخدوم سید اشرف جہاں گیر سمنانی کا گزراس جگہ سےہوا توآپ نے اسے پسند فرمایااور یہیں قیام کرنے کا ارادہ ظاہرکیا لیکن پھریہ ارادہ کسی وجہ سےبدل دیا اور شیخ رکن الدین شہبارعلیہ الرحمہ کویہاں بسایا ۔نئی پورہ سے متصل ’’مقام‘‘ میں آپ کی درگاہ زیارت گاہ عام وخاص ہے۔
آپ مخدوم سید اشرف جہانگیرکی حیات طیبہ کے بہت سےواقعات کےمشاہد ہیں۔ لطائف اشرفی میں کئی مقامات پر آپ کا ذکر ہے۔ مکتوبات اشرفی مرتبہ مخدوم آفاق سید عبد الرزاق نور العین جو مخدوم سید اشرف جہانگیرکے مکاتیب کا مجموعہ ہے۔کل ۷۴ مکاتیب پر مشتمل ہے۔ان میں ۳۳؍واں مکتوب مخدوم شیخ رکن الدین شہبازکے نام ہے۔
مخدوم شیخ رکن الدین شہباز چشتی علیہ الرحمہ کے مزاراقدس کوگھاگھراندی کی تباہ کاریوں کی وجہ سے دوبار منتقل کیاگیا۔ایک بارانتقال کے تقریبا دوسوسال کے بعد یہ واقعہ رونما ہوا جس کا ذکر صاحب بحرزخار مولانا وجیہ الدین لکھنوی نے کیاہے۔اوردوسری بار1916ءمیں جب شدید سیلاب آیا تومتولیان وصاحبزادگان نے اس کی اطلاع اپنے پیر ومرشد مخدوم المشایخ سید محمد علی حسین اشرفی میاں کو دی اور انہوں نے اپنے پیرومرشد مخدوم حاجی ابو محمد حسین اشرف اشرفی جیلانی کی خدمت میں تذکرہ کیا،آپ نے مراقبہ کے بعد جسد خاکی کو نکال کر باغ کے قریب دفن کرنے کا حکم صادرفرمایا،اس کے علاوہ خود مخدوم المشایخ سید شاہ علی حسین اشرفی میاں علیہ الرحمہ کو بحالت خواب صاحب مزارکی طرف سے اس کام پر مامورکیاگیا۔اس واقعہ کی پوری تفصیل صحائف اشرفی میں درج ہے۔
طالب دعا
عبد الخبیر اشرفی مصباحی
صدر المدرسین دار العلوم عربیہ اہل سنت منظراسلام،التفات گنج، امبیدکر نگر

No comments:

Post a Comment