Breaking

Search This Blog

Monday, July 20, 2020

aalahazrat Ashrafi Miya ek taruf

🌹قطب الاقطاب امام السالکین زبدہ العارفین شیخ المشائخ مجدد سلسلہ اشرفیہ اعلیٰ حضرت سید علی حسین الاشرفی الجیلانی (معروف بہ) اشرفی میاں قدس سرہ العزیز 

🌹
اسم مبارک:-

سید علی حسین الاشرفی کنیت ۔ابو احمد ۔خاندانی خطاب:اشرفی میاں

والد ماجد:-

حاجی سیدسعادت علی الاشرفی الجیلانی علیہ الرحمہ

ولادت:-
۲۲؍ربیع الثانی ۱۲۶۶ھ بروز دو شنبہ بوقت صبح صادق
رسم بسم الله خوانی

حضرت علامہ گل محمد خلیل آبادی علیہ الرحمۃ نےبسم اللہ خوانی کی رسم ادا کرائی

تعلیم و تربیت

حضرت مولانا شاہ امانت علی کچھوچھوی، اورمولانا سلامت علی گور کھپوری اور حضرت مولانا سیّد قلندر بخش کچھوچھوی علیہم الرحمۃ سے فارسی عربی کی تحصیل کی

بیعت و خلافت

۱۲۸۲ھ میں اپنے برادر اکبر قطب المشائخ حضرت شاہ اشرف حسین قد سرہٗ سےمرید ہوکر تکمیل سلوک فرماکر اجازت و خلافت حاصل ہوئی

ہم شبــــیہِ غوث الاعظــــــــم

محبوب ربانی شیخ المشائخ حضرت سید شاہ ابواحمد محمد علی حسین اشرف اشرؔفی میاں الجیلانی رحمۃ اللہ علیہ حلقہ مشائخ کرام میں احسن الوجوہ ہونے کے بنا پر شبیہ غوث الثقلین سے معروف اور جانے پہچانے جاتے تھے چنانچہ شیخ مارہرہ مقدسہ حضور قدوۃ السالکین مولانا سید شاہ اٰلِ رسول مارہروی علیہ الرحمہ نے اعلی حضرت اشرفی میاں علیہ الرحمہ کو شبیہ غوث الثقلین سے یاد فرمایا۔

امام اہلسنت امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کو جب معلوم ہوا کہ ان کے پیرومرشد حضرت اٰلِ رسول علیہ الرحمہ کی طبیعت زیادہ ناساز ہےتو آپ خود بغرض مزاج پرسی مارہرہ شریف تشریف لے گئے ۔ حضرت آلِ رسول علیہ الرحمہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی کو دیکھ کر فرمایاکہ میرے پاس سرکار غوث اعظم علیہ الرحمہ والرضوان کی امانت ہے جسے اولاد غوث اعظم میں شبیہ غوث الثقلین مولانا سید شاہ ابواحمد محمد علی حسین اشرفی کچھوچھوی کو سونپی اور پیش کرنی ہے اور وہ اس وقت شیخ المشائخ محبوب الہی حضرت نظام الدین اولیاء چشتی رضی اللہ عنہ کے آستانہ پر ہیں محراب مسجد میں ملاقات ہوگی۔

چنانچہ سیدی امام احمدرضا خاں فاضل بریلوی علیہ الرحمہ دلی تشریف لائے حضرت محبوب الہی علیہ الرحمہ کے آستانہ پر حاضری دی پھر مسجد میں تشریف لائے تو واقعی پیر کی نشاندہی کے بموجب حضرت اشرفی میاں علیہ الرحمہ کو محراب ِ مسجد میں پایا اور خوشی سے جھوم اُٹھے اور برجستہ فی البدیہہ یہ شعر کہے؟

اشرؔفی اے رخت آئینۂ حسن خوباں

اے نظر کردہ و پروردۂ سۂ محبوباں

اے اشرفی میاں سرکار! آپکا چہرہ انور حسن وخوبی کا آئینہ ہے

آپ تینوں محبوبین کے پروردہ اور نظر کردہ ہیں

محبوب سبحانی غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ
محبوب الہی سلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیاء رضی اللہ عنہ
محبوب یزدانی غوث العالم سلطان مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی رضی اللہ عنہ
پھر عرض مدعاکیا۔ اعلیٰ حضرت اشرفی میاں نے مارہرہ شریف میں حاضری دی حضرت سید شاہ آلِ رسول علیہ الرحمہ نے سلسلہ عالیہ قادریہ برکاتیہ کی اجازت اور خلافت بخشی اور یہ فرمایا کہ جس کا حق تھا اس تک یہ امانت پہونچادی ۔ اس کے بعد حضرت سید شاہ آلِ رسول علیہ الرحمہ کے اعلیٰ حضرت اشرفی میاں خاتم الخلفاء کہلائے۔ (صحائف اشرفی)
اعلی حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی اور اعلی حضرت اشرفی میاں کی باہمی تعلقات

اعلی حضرت علی حسین اشرفی میاں اعلی حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ سے بے انتہا محبت فرماتے تھے اور اعلی حضرت فاضل بریلوی بھی حضور اشرفی میاں کو دل وجاں سے چاہتے تھے

ان محبت و پیار کا ثبوت اس واقعہ سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ جب کبھی بھی اعلی حضرت اشرفی میاں کا گزر بریلی شریف سے ہوتا اور معلوم ہو جاتا کہ ٹرین بریلی شریف سے گزرنے والی ہے تو آپ امام اہل سنت کے شہر کے ادب کی وجہ سے کھڑے ہو جاتے اور جب تک ٹرین بریلی شریف سے گزر نہ جاتی آپ کھڑے رہتے اسی طرح اگر اعلی حضرت فاضل بریلوی کو اگر معلوم ہوجاتا کہ اعلی حضرت اشرفی میاں کا گزر بریلی شریف سے ہو رہا ہے اور ٹرین کا اشٹاپ بریلی جنکشن پر بھی ہے تو آپ کھانا لیکر حاضر ہو جاتے

یہ تھا آپ علیہما الرحمہ کی باہمی محبت و مودت کا انداز

سیاحت اور تبلیغ دین

محبوب ربانی شیخ المشائخ حضرت سید شاہ ابواحمد المدعومحمد علی حسین اشرف اشرؔفی میاں الجیلانی قدس سرہ تکمیل روحانی کے بعد آپ بززگان دین وسلف صالحین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سیاحت کے کے روانہ ہوئے آپ کا مقصد صرف تبلیغ دین دین تھا اسی نیک مقصد کے لئے آپ نے ہندوستان اور عرب ممالک کے طول و عرض میں کامیاب دورے کئے ۔ لاکھوں غیر مسلموں کو مشرف بہ اسلام کیا اور لاکھوں افراد آپ کے دست مبار ک پر تائب ہوئے آپ کی ذات سے سلسلہ اشرفیہ کو بڑا فروغ حاصل ہوا آپ کی عظیم روحانی شخصیت کو دیکھ کر ہندوستان ، پاکستان ، بنگلہ دیش، نیپال اور عرب ممالک میں عدن، جدہ، مکۃ المکرمہ، مدینۃ المنورہ، شام، حلب،ترکی، عراق، مصر، یمن کے جید علماء کرام نے آپ کے دست مبارک پر بیعت کی اور اکثر علماء کرام اور سادات عظام کو روحانی تربیت کے بعد سلسلہ عالیہ اشرفیہ کی خلافت سےنوازا

وصال:

11/رجب المرجب،1355ھ میں آپ کا وصال ہوا، مرقد مبارک درگاہ سلطان التارکین

مخدوم جہانگیر سید اشرف سمنانی(کچھوچھہ مقدسہ اترپردیش ہند) کے قریب میں مرکز تجلیات ہے ۔


✒خیر خواہ اہلسنت

💐نازش المدنی مرادآبادی غفر لہ الھادی
واٹسپ نمبر :
+918320346510


No comments:

Post a Comment

Popular Posts

Popular Posts