Breaking

Search This Blog

ShaikhulIslaam Android App

Tuesday, August 6, 2019

اشرفی میاں حافظ ملت کی نظر میں

*اشرفی میاں حافظ ملت کی نظر میں!*
حضور حافظ ملت شاہ عبد العزیز محدث مرادآبادی علیہ الرحمہ اپنے پیر و مرشد(ہم شبیہ غوث اعظم مجدد سلسلہ اشرفیہ شیخ المشائخ اعلی حضرت سید علی حسین اشرفی میاں اشرفی جیلانی کچھوچھوی علیہ الرحمہ)کے متعلق'طلبہ جامعہ اشرفیہ مبارکپور' کے سامنے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ(حضرت اشرفی میاں رحمۃ اللہ علیہ جن کی ولایت میں کوئی شبہ(شک)نہیں ان کی شان یہ تھی کہ چہرہ مبارک پر نور کی بارش ہوتی تھی- جہاں بیٹھ جاتے ایک بھیڑ جمع ہو جاتی- کیا ہندو کیا مسلمان تمام مذہب والے دیکھ کر فریفتہ ہو جاتے- جب حضرت'اشرفی میاں علیہ الرحمہ'ایک مرتبہ اجمیر شریف تشریف لے گئے-جمعہ کا دن تھا- جمعہ کی نماز پڑھائی- اور پھر نماز بعد تقریر فرمائی- اس کے بعد فرمایا- آج فقیر خواجہ کی بارگاہ میں بیعت کرنا چاہتا ہے- جس کا جی چاہے اپنا ہاتھ دیدے-یہ فرمانا تھا کہ سارا مجمع ٹوٹ پڑا-اور تمام حاضرین فوراً داخل سلسلہ ہو گئے-ایسا منظر اور ایسی مقبولیت تو میں نے دیکھی نہیں- اجمیر شریف کے اسٹیشن پر میں نے دیکھا کہ حضرت'اشرفی میاں علیہ الرحمہ'لیٹے ہوئے ہیں نہ کسی سے کچھ کہنا نہ بولنا لیکن لوگ ہیں کہ جوق در جوق زیارت کے لئے چلے آرہے ہیں- آپ(یعنی حضور اشرفی میاں علیہ الرحمہ)حج سے تشریف لائے تو بیمار ہو گئے مجھے(یعنی حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ کو) معلوم ہوا تو فوراً کچھوچھہ مقدسہ زیارت کے لئے حاضر ہوا حضرت نے دیکھتے ہی سب سے پہلے مدرسہ کے بارے دریافت فرمایا کہ مدرسہ چل رہا ہے؟میں عرض کیا حضور! مدرسہ چل رہا ہے پھل رہا ہے پھول رہا ہے اس وقت تقریباً ستر طلبہ کو خوراک ملتی ہے-(حافظ ملت علیہ آگے فرماتے ہیں کہ(اور جب حضرت'اشرفی میاں رحمۃ اللہ علیہ'نے بازار میں نئے مدرسہ کی بنیاد رکھی جس کا تاریخی نام باغ فردوس(١٣٩٣)ہے اور یہ واقعی باغ فردوس ہے اس کا یہ نام آسمان سے اترا ہے تو اس کی پہلی اینٹ رکھنے کے بعد حضرت'اشرفی میاں علیہ الرحمہ'نے فرمایا:جو اس'مدرسہ' کی ایک اینٹ کھسکائے گا خدا اس کی دو اینٹ کھسکائے گا:
/ ملفوظات حافظ ملت ص ٤٠ تا ٤١'مرتب-مولانا اختر حسین فیضی مصباحی'اشاعت ١٤١٥ھ'ناشر المجمع الاسلامی مبارک پور اعظم گڑھ'بحوالہ- ماہنامہ اشرفیہ جنوری.فروری. ١٩٨٣ء'از مولانا عبد المبین نعمانی مصباحی/

از قلم شبیر احمد راج محلی

No comments:

Post a Comment